اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے مغربی کنارے میں بڑے پیمانے پر حماس کے کارکنوں اور عام شہریوں کی گرفتاریاں شروع کر دی ہیں۔ بیت لحم کے ٹاؤن بیت فجار سے گیارہ نوعمر لڑکوں اور نوجوانوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق گرفتار لڑکوں کے ہاتھ باندھ کر اور آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر تفتیش کے لیے حراستی مراکزمنتقل کر دیا گیا ہے۔ مقامی افراد کے مطابق گرفتار کیے جانے والے افراد میں 22 سالہ دو جڑواں بھائی یونس اور یوسف، 25 سالہ احمد محمود صابر دیریہ، 20 سالہ ساھر نافز محمد ثوابتہ، 20 سالہ ابراہیم سمیح محمد طقاطقہ، 20 سالہ محمد طالب محمود ظاہر ثوابتہ، 20 سالہ جہاد جمال محمود علی ثوابتہ، 20 سالہ شاکر محمد شاکر طقاطقہ، 16 سالہ ایھاب باسم عاید خلیل ثوابتہ اور لوئی خلیل ثوابتہ، 20 سالہ ابراھیم سمیح محمد خلیل ثوابتہ اور 19 سالہ رافت ابراھیم محمد طقاطقہ شامل ہیں۔
ادھر القدس کی سلوان کالونی سے دو نوجوان ایاد عمر الشلبی اور یزن عماد صیام کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ اول الذکر کی عمر بیس جبکہ دوسرے کی اٹھارہ سال تھی۔ ان دونوں کو گھروں پر چھاپے مار کر گرفتار کیا گیا۔
الخلیل میں بھی جمعرات کی صبح صہیونی اہلکاروں نے چار فلسطینی شہریوں کو گرفتار کیا جن میں ایک خاتون بھی شامل ہے۔ مقامی افراد کے مطابق قابض فورسز نے شہر کے علاقے ابو ریان پر دھاوا بولا اور الخلیل کے دفاع کے لیے سرگرم کارکن تیس سالہ نھیل ابو عیشہ کو گرفتار کرلیا۔ اسرائیلی اہلکاروں نے ان کے گھر کے سامان کی توڑ پھوڑ بھی کی۔
شہر کے علاقے باب الزاویہ سے ایک لڑکا ایھاب ابو حلاوہ اسرائیلی فوجیوں کے ہتھے چڑھ گیا، اسی طرح دورا کے علاقے سے دو نوجوانوں احمد ابریوش اور نضال عقیلی کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام منتقل کر دیا گیا ہے۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
