فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں جامعہ بیر زیت کے زیراہتمام کتب کی ایک نمائش کے دوران فتح کے وزیراعظم سلام فیاض کو اس وقت سخت سبکی کا سامنا کرنا پڑا جب وہ کتاب میلے کےدوران طلباء کے سوالوں کا جواب نہ دے سکے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق جامعہ بیرزیت کے ایک طالب علم نے بتایا کہ سلام فیاض کتاب میلےمیں شرکت کے لیے گئے۔ وہ کتابوں کے ایک اسٹال پر کھڑے کتابیں دیکھ رہے تھے کہ اس دوران اس نے وزیراعظم سے کچھ سوالات پوچھے۔ جس پر سلام فیاض خاموش رہے۔
فلسطینی طالب علم نے بتایا کہ سلام فیاض نے جب اس کے سوالوں کے جواب نہ دیے تو دیگر طلباء بھی وہاں جمع ہو گئے، ان سب نے سلام فیاض سے کہا کہ انہیں میلے میں کسی نے مدعو نہیں کیا۔ وہ یہاں سے چلے جائیں۔ اس پر سلام فیاض نے طلباء سے وجہ دریافت کی تو طلباء نے کہا کہ ان کی حکومت مغربی کنارے میں نا انصافیوں کو فروغ دے رہی ہے اور حماس اور دیگر جماعتوں کے ساتھ صلح کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرتی ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے ذرائع کے مطابق سلام فیاض کے ہمراہ سیکیورٹی اہلکاروں نے طلباء کو دور کرنے کی کوشش کی تاہم طلباء کے بجائے سلام فیاض خود چپکے سے کھسک گئے۔ اس کے بعد کتاب میلے میں نہیں دکھائی دیے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
