فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے مختلف شہروں میں جمعہ کے روز فلسطینیوں کے ہفتہ وار احتجاجی مظاہروں کے دوران اسرائیلی فوج نے وحشیانہ تشدد کیا جس کے نتیجے میں درجنوں افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق بیت لحم میں فلسطینیوں نے نماز جمعہ کے بعد اسرائیل کی یہودی بستیوں کی حفاظت کے لیے تعمیر کردہ نسلی دیوار اور یہودی کالونیوں کی توسیع کےخلاف نکالے گئے فلسطینیوں کے جلوس پر لاٹھیوں، ربڑ کی گولیوں اور اشک آور گیس سے حملہ کیا۔ جس کے نتیجے میں دسیوں افراد زخمی ہو گئے۔
بیت لحم میں نسلی دیوار کے خلاف سرگرم مقامی مزاحمتی کمیٹی کے سربراہ محمد البریجیہ نے مرکزاطلاعات فلسطین کو بتایا کہ انہوں نے مغربی کنارے کے دیگرعلاقوں میں یہودی بستیوں کےخلاف نکالے گئے جلوسوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے جلوس نکالا تو اسرائیلی فوج نے ان پر حملہ کر دیا۔ کئی افراد شدید زخمی لاٹھی چارج اور اشک آور گیس کے شیل لگنے سے ہوئے۔
ادھرمغربی کنارے کے ایک دوسرے شہر معصرہ میں بھی یہودی آباد کاری اور نسلی دیوار کے خلاف نکالے گئے فلسطینیوں کے جلوس پر اسرائیلی فوج نے تشدد کیا جس کے نتیجے میں کئی افراد زخمی ہو گئے، زخمیوں کئی غیرملکی رضاکار بھی شامل ہیں، جو ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر جلوس میں شریک تھے۔
دھر رام اللہ میں مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیلی فوج نے شہرسے جمعہ کے روز تلاشی کی کارروائیوں میں دو شہریوں کو حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔ مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ دونوں افراد کو یہودی نسلی دیوار اور کالونیوں کی تعمیر کے خلاف مظاہرے منظم کرنے کی پاداش میں حراست میں لیا گیا ہے۔

