فلسطینی صدر محمود عباس کے زیرکمانڈ نیشنل ڈیفنس فورس کے ایک سرکردہ عہدیدار کرنل ھشام الرخ کو رات گئے نامعلوم افراد نے مغربی کنارے کے شہر جنین میں فائرنگ کرکے قتل کردیا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کو ذرائع سے اطلاع ملی ہے کہ چالیس سالہ کرنل ھشام الرخ کو منگل اور بدھ کی درمیانی شب اس وقت نامعلوم افراد نے گولیاں ماریں جب وہ دفتر سے رہائش گاہ کی طرف آ رہے تھے۔ نامعلوم افراد کی فائرنگ سے گولیاں کرنل ھشام کے پاؤں، سینے اور گردن پر لگی ہیں۔ انہیں شدید زخمی حالت میں شہید خلیل سلیمان اسپتال میں منتقل کیا گیا جہاں وہ کچھ ہی دیر بعد زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسے۔
خیال رہے کہ مقتول کرنل ھشام فلسطینی مزاحمت کاروں کےخلاف کارروائیوں میں شہرت رکھتے تھے۔ اس کے علاوہ مغربی کنارے میں دراندازی کرنے والے یہودی تخریب کاروں کو بغیر کسی پوچھ گچھ کے واپس یہودی کالونیوں تک پہنچانے کے باعث بھی انہیں فلسطینی حلقوں کی طرف سے سخت تنقید کا سامنا رہا ہے۔
سنہ 2007ء میں کرنل ھشام نے کئی یہودی تخریب کاروںکو ایک مسجد کو شہید کرنے کی سازش کے الزام میں حراست میں لیا لیکن انہیں بغیر کسی پوچھ گچھ کے چھوڑ دیا تھا۔ ساتھ ہی انہوں نے یہودی آبا کاروں کو چھوڑنے پر فخر کا اظہار کیا تو ان کا یہ بیان اسرائیلی سرکاری ٹی وی پربھی نشرہوا تھا۔ ان دنوں وہ مغربی کنارے کے شہر جنین کی نیشنل ڈیفنس فورس کے ڈپٹی چیف کےعہدے پر تعینات تھے۔ عباس ملیشیا نے واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں تاہم ابھی تک کسی بھی کرنل ھشام کے قتل کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے اور نہ ہی کسی کو مورد الزام ٹھہرایا گیا ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
