فلسطین مقبوضہ مغربی کنارے میں صدر محمود عباس کے زیر کمان سیکیورٹی فورسز نے اسلامی تحریک مزاحمت”حماس” کے کارکنوں کے خلاف پکڑ دھکڑ کی تازہ کارروائی شروع کی ہے۔
جمعہ کے روز مختلف شہروں میں گھرگھر تلاشی کی کارروائیوں میں حماس کے تین ارکان گرفتار اور دسیوں کی طلبی کے نوٹسز جاری کیے گئے ہیں۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق عباس ملیشیا نے جمعہ کے روز رام اللہ، بیت لحم اور نابلس میں تلاشی کی کارروائیوں میں حماس کے تین ارکان کو گرفتار کیا۔ محروسین میں دو سابق اسیران بھی شامل ہیں۔
ادھر مغربی کنارے کے شہر طولکرم میں عباس ملیشیا نے حماس کے چار کارکنوں کو سیکیورٹی فورسز کے مراکز میں خود ہی پیش ہونے کے نوٹسز جاری کیے ہیں۔ طولکرم میں تلاشی کی کارروائیوں کے دوران عباس ملیشیا نے حماس کے چار کارکنوں کے اہل خانہ کو نوٹسز دیے اور کہا کہ چاروں اہلکار سیکیورٹی فورسز کو مطلوب ہیں وہ جلد ازجلد خود خو حکام کے حوالے کر دیں۔
بیت لحم میں عباس ملیشیا کی ڈیفنس فورسز نے یونیورسٹی کے طالب علم محمد علی یوسف کو طلبی کے بعد گرفتار کر لیا۔ذرائع کے مطابق حماس کے ایک دوسرے زیرحراست کارکن غنیم احمد کو مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کرنے کے بعد انہیں پندرہ روز کے لیے حراست میں رکھنے کی اجازت حاصل کر لی ہے۔
مقبوضہ مغربی کنارے کےشہر الخلیل میں عباس ملیشیا نے جمعہ کے روز گھرگھر تلاشی کے دوران شہریوں بالخصوص خواتین اور بچوں کو زد و کوب کیا۔ اس دوران درجنوں افراد کو مطلوب قرار دے کر انہیں خود کو سیکیورٹی حکام کے حوالے کرنے کے نوٹسز جاری کیے گئے۔
خیال رہے کہ فلسطینی صدر محمودعباس کے زیرکمان سیکیورٹی فوسز کے ہاتھوں بے گناہ فلسطینیوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ ایک ایسے وقت میں جاری ہے جب دوسری جانب صدر کی جماعت الفتح حماس کے ساتھ سیاسی قیدیوں کی گرفتاریوں کا باب بند کرنے کے معاہدے کر رہی ہے۔

