فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں صدر محمود عباس کی جماعت الفتح کی طرف سے یک طرفہ بلدیاتی انتخابات میں ٹرن آؤٹ فقط 35 فی صد رہا ہے اور ضلعی کونسلوں کی سیٹوں پر فتح کے امیدواروں کوشرمناک شکست کا سامنا کرنا پڑا ے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق مغربی کنارے کے شہرنابلس میں سنہ 2005ء کے بلدیاتی انتخابات کےدوران پہلی مرتبہ ٹرن آؤٹ کا ریکارڈ ٹوٹا ہے، جہاں مجموعی طورپر75 فی صد شہریوں نےکل ہفتے کے روز ووٹ ڈالے۔ کامیاب ہونے والوں میں زیادہ آزاد امیدوار اور فلسطینی مذہبی جماعتوں کے رہ نما ء شامل ہیں جبکہ فتح کے امیدواروں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
ادھر مرکزاطلاعات فلسطین کےذرائع نے اطلاع دی ہے کہ مغربی کنارے میں ووٹوں کی گنتی کے دوران فتح کی مداخلت کے باعث غلط نتائج ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہوئے انتخابات میں دھاندلی کی سازشیں کی جا رہی ہیں۔ مغرب کنارے کے سرکاری ملازمین اور انتخابی عملے نے بھی فتح کے امیدواروں کی طرف سے شکایات کے انبارلگا دیے ہیں۔ سرکاری ملازمین کا کہنا ہے کہ فتح کے امیدواروں کی ناکامی کی خبروں کے بعد ان پرنتائج تبدیل کرنے کے لیے دباؤ بڑھ گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق فتح کے بلدیاتی بلاک فریڈم اینڈ ڈویلپمنٹ کے امیدواروں کو عوامی جمہوری محاذ برائے آزادی فلسطین کے بلاک کے سامنے کئی شہروں میں شکست کا سامنا کرنا پڑاہے۔
خیال رہے کہ فلسطینی اتھارٹی نے کل بیس اکتوبرکو مغربی کنارے میں بلدیاتی انتخابات کرائے ہیں، جن کے غیرحتمی نتائج آنا شروع ہوگئے ہیں، تاہم اس کے ساتھ ساتھ دھاندلی کی شکایات بھی موصول ہو رہی ہیں۔ فلسطین کی بڑی مذہبی سیاسی جماعتوں حماس اور اسلامی جہاد نے ان انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
