فلسطین کی ایک بڑی مذہبی اور سیاسی جماعت اسلامی جہاد نے کہا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں جماعت کے کارکنوں کےخلاف صدر محمود عباس کے زیرکمانڈ فورسز کا کریک ڈاؤن بدستور جاری ہے۔
خاص طور پر عباس ملیشیا کی جانب سے جاری کریک ڈاؤن کی پالیسی میں سابق اسیران کو دانستہ طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اسلامی جہاد کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ رام اللہ اتھارٹی کے زیرکمانڈ انٹیلی جنس فورسزنے جماعت کے اکیس سالہ رکن اورسابق اسیر عبدالطیف الحرباوی گذشتہ پندرہ روز سے خفیہ ٹارچرسیل میں رکھا ہے حالانکہ عدالت نے اس کی فوری رہائی کے بھی احکامات دیے ہیں۔
بیان میں بتایا گیا ہے کہ عبدالطیف الحرباوی کو عباس ملیشیا نے اٹھارہ مارچ کو طلب کیا تھا۔ اس کے بعد سے اب تک اسے مسلسل حراست میں رکھا گیا ہے۔
ادھر پیر کو عباس ملیشیا نے طولکرم میں مہاجرین کے ایک کیمپ نورالشمس میں عباس ملیشیا نے تلاشی کے دوران چوبیس سالہ اشرف طبال کو طلب کرنے کے بعد حراست میں لے لیا۔ طبال بھی گذشتہ برس عباس ملیشیا کی حراست میں رکھے گئے تھے اور انہیں چھ ماہ تک نہایت سفاکانہ طریقے سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
درایں اثناء اسلامی جہاد کے ذرائع کا کہنا ہے کہ جماعت میں مغربی کنارے میں عباس ملیشیا کے کریک ڈاؤن کے باعث جماعت کی صفوں میں سخت خوف وہراس پایا جا رہا ہے، کیونکہ گذشتہ چند ماہ سے عباس ملیشیا نے جماعت کے کارکنوں اور رہ نماؤں کے خلاف ظالمانہ کریک ڈاؤن جاری رکھا ہوا ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

