مغربی کنارے کے مختلف شہروں اور علاقوں میں اسرائیلی نسلی دیوار اور یہودی بستیوں کے خلاف ہفتہ وار احتجاجی ریلی کے شرکاء پر صہیونی سکیورٹی فورسز کے لاٹھی چارج اور تشدد سے درجنوں فلسطینی شہری زخمی ہو گئے ہیں۔
اس ہفتے کے احتجاجی مظاہروں کے دوران فلسطینی شدید مشتعل دکھائی دیے۔
مغربی کنارے میں بڑھتی مہنگائی، بے روزگاری اور غربت کے خلاف فلسطینی اتھارٹی کی خلاف احتجاجی مظاہرے پہلے سے جاری ہیں۔ اسی مناسبت سے جمعہ کے روز کے احتجاجی مظاہرے کو ’’اوسلو معاہدہ اور اسرائیل سے کیے گئے تمام معاہدے دفن کرو‘‘ کا عنوان دیا گیا تھا۔
نسلی دیوار و یہودی آباد کاری مخالف قومی کمیٹی نے بتایا کہ نسلی دیوار کی جانب بڑھنے والے فلسطینیوں کی ریلیوں پر اسرائیلی فوج نے ربڑ میں ملفوف دھاتی گولیوں اور اشک آور گیس کے شیلوں کی بوچھاڑ کردی۔ مغربی کنارے کو سن 1948ء کے مقبوضہ فلسطین سے جدا کرنے والی اس دیوار کے قریب جانے کی کوشش کرنے والے مظاہرین پر خطرناک کیمیکل کی ملاوٹ والا پانی بھی برسایا گیا۔
فلسطین کے گاؤں کفر قدوم سے نکالی جانے والی ریلی پر اسرائیلی فوج کے حملے کےدوران تین اہل علاقہ اور متعدد غیر ملکی رضا کاروں کو گرفتار بھی کرلیا گیا۔ ریلی کے شرکاء نے کئی گھنٹے تک علاقے کی مرکزی شاہراہ بند کیے رکھی۔
بعد ازاں ظالم صہیونی اہلکاروں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے دھاتی گولیوں سے اندھا دھند فائرنگ کی جس کی زد میں آکر متعدد افراد زخمی ہوگئے اور فلسطینیوں کو احتجاجی دھرنا ختم کرنا پڑا۔
اسرائیل نے گاؤں کے اطراف متعدد چیک پوسٹیں صبح سے ہی قائم کرکے علاقے کو ممنوعہ فوجی علاقہ قرار دے دیا تھا۔ چیک پوسٹوں سے گزرنے والے درجنوں افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
