عالمی انسانی حقوق یک جہتی فاؤنڈیشن کے وکیل اسامہ مقبول کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے زیر حراست فلسطینی مجلس قانون ساز کے رکن احمد الحاج علی کی انتظامی حراست میں میں توسیع نہ کرنے کے حوالے سے ایک معاہدہ طے پا گیا ہے۔
اسامہ مقبول نے بتایا کہ عوفر جیل میں عدالت نے مقدمے کی سماعت کی اور اس دوران پراسکیوٹر جنرل گرفتار کیے گئے الحاج علی کے خلاف کوئی ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہے جس پر عدالت نے فیصلہ سنایا کہ اس مرتبہ پانچ اکتوبر کو ان کی مدت حراست ختم ہوتے ہی انہیں فوری رہا کردیا جائے۔ خیال رہے کہ رکن پارلیمان الحاج علی کی عمر بہتر سال ہے، وہ انتظامی حراست میں لیے گئے اراکین پارلیمان میں سب سے زیادہ عمر والے ہیں انہوں نے گزشتہ مارچ کے وسط میں اپنی انتظامی حراست کے خلاف پندرہ روز تک بھوک ہڑتال بھی کی تھی۔ اسرائیلی خفیہ ایجنسیوں نے ان کی بھوک ہڑتال کے خاتمے کی صورت میں ان کی رہائی کا وعدہ کیا تھا تاہم خفیہ ایجنسی بعد میں ان کو رہا کرنے کے اپنے وعدے سے مکر گئی تھی۔
یاد رہے کہ اسرائیل نے بیس سے زائد فلسطینی اراکین پارلیمان کو حراست میں لے رکھا ہے۔ متعدد پارلیمنٹیرینز کو بغیر کسی فرد جرم کے محض انتظامی بنیادوں پر زیر حراست رکھا گیا ہے۔ اسرائیلی حکام نے رکن پارلیمان الحاج علی کو بھی 07 جون 2011ء کو نابلس شہر میں ان کے گھر سے اغوا کیا تھا۔ الحاج علی اپنی بڑی عمر کی وجہ سے سماعت کی کمی اور متعدد دیگر امراض میں مبتلا ہیں۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

