سن 1948ء میں فلسطین کے بڑے حصے پر قبضہ کرکے بنائی گئی اسرائیلی ریاست کے علاقے رملہ کی ایک عدالت نے ایک فلسطینی بچے کو قتل کرنے والے اسرائیلی فوجی کو باعزت بری کردیا۔
صہیونی فوجی نے دوران تفتیش سن 2008ء میں احمد موسی نامی فلسطینی بچے کو دو گولیاں مارنے کا اعتراف بھی کیا تھا۔
قتل کی یہ کارروائی جولائی 2008ء میں فلسطینی گاؤں نعلین میں اس وقت کی گئی تھی جب یہ فلسطینی بچہ اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے کو مقبوضہ فلسطین سے علیحدہ کرنے کے لیے بنائی گئی دیوار کے خلاف مظاہرے میں شریک تھا۔ اسرائیلی فوجی جیپ کی ڈرائیونگ کرنے والے اس فوجی نے احمد کے سر پر گولیاں ماری تھیں۔ صہیونی فوج نے عدالت میں کہا تھا کہ فوجی گاڑی پر اس بچے کی جانب سے کیے جانے والے پتھراؤ کا جواب نہ دینا کمزوری کو ظاہر کرتا ہے لہذا اس نے بچے پر فائر کھول دیا تھا۔
عدالت نے معصوم بچے کے قاتل کو بری کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات ثابت نہیں ہو سکی کہ بچےکی وفات اسی فوجی کی فائرنگ کے سبب ہوئی ہے۔ یاد رہے کہ اسرائیلی پولیس بھی بچے پر کی گئی اس فائرنگ کی مذمت کر چکی ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
