فلسطین کےمقبوضہ مغربی کنارے میں غیرآئینی وزیراعظم سلام فیاض کو معاشی بحران کے حل کے سلسلے میں اسرائیل کے ساتھ مشاورت پراپنی پارٹی‘‘الفتح’’ کی جانب سے سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
فتح کے مختلف اراکین قانون ساز کونسل کا کہنا ہے کہ سلام فیاض اپنی معاشی پالیسیاں درست کرنے کے بجائے اسرائیل سے مشاورت کرکے بحران کو مزید گھمبیر کر رہے ہیں۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق فتح کے ایک مرکزی رہ نما نجات ابو بکر نے ہفتے کے روز رام اللہ ایک ٹی وی انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سلام فیاض پچھلے دو سال کےفلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے درمیان جاری مذاکرات کی ناکامی کو کامیابی میں بدلنے کی کوشش کررہے ہیں۔ فلسطینی اتھارٹی نےاسرائیل کے ساتھ نہ صرف دو سال تک مسلسل مذاکرات کی بحالی کی ناکام کوششیں کی ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ صہیونی ریاست کے ساتھ اٹوٹ سیکیورٹی تعاون بھی کیا جاتا رہا ہے۔
نجات ابو بکر نے سلام فیاض کی معاشی پالیسیوں پر سخت نکتہ چینی کی اور کہا کہ سلام فیاض کا اسرائیلی حکام بالخصوص اسرائیل کے مرکزی بنک کے عہدیداروں کے ساتھ مشاورت حکومت کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔ مالیاتی بحران کے حل کے لیے معاشی پالیسیوں کو تبدیل کرتے ہوئے کرپشن اور لوٹ مار کا بازار بند کرنا پڑے گا اسرائیل کے ساتھ کی گئی مشاورت کا کوئی فائدہ نہیں ہے اور نہ ہی صہیونی حکام کبھی اسرائیلی ماہرین سے کبھی فائدہ اٹھا پائے ہیں۔ سلام فیاض کو اسرائیل سے نصیحت لینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
ایک دوسرے سوال کے جواب میں فتح رہ نما نے کہا کہ فلسطینی حکومت کی موجودہ معاشی پالیسیوں نے عوام کی مشکلات میں بے پناہ اضافہ کیا ہے اور سلام فیاض کی انتظامیہ لوگوں کو ریلیف فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے سلام فیاض کی کابینہ میں ہونے والی لوٹ مار کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ کرپشن اور بدعنوانی نے ہرطبقے کے افراد کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
