فلسطینی اتھارٹی کو درپیش مالیاتی بحران نے فلسطین کی بڑی جامعات اورسرکاری تعلیمی اداروں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ ایک رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے سرکاری جامعات کو فنڈز فراہم نہ کیے گئے تو وہ ان کے بند ہونے کا اندیشہ ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطینی جامعات سے وابستہ تنظیم اساتذہ کی جانب سے نے ایک بیان میں خبردار کیا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے جامعات کو فنڈز کی فراہمی روک دی گئی ہے۔ اگر فنڈز کی بحالی میں مزید تاخیر کی جاتی ہے تو جامعات کے بند ہونے کا خطرہ ہے۔تنظیم اساتذہ کے چیئرمین امجد برہم نے رام اللہ میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران جامعات کو درپیش مالیاتی بحران اور اس کے سنگین خطرات پرمشتمل ایک رپورٹ بھی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ جامعات کا اپنا کوئی ذریعہ آمدن نہیں ہے۔ طلباء کی فیسز سے تعلیمی اداروں کے تمام اخراجات پورے نہیں کیے جاسکتے ہیں۔فلسطینی اتھارٹی کے ذمہ جامعات کے واجب الاداء فنڈز کی ادائی میں مسلسل تاخیری حربے استعمال کیے جا رہے ہیں اور بحران دن بہ دن شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔
امجد برہم کا کہنا تھا کہ پچھلے پانچ سالہ منصوبے کے لیے فلسطینی اتھارٹی نےجامعات کے لیے جو فنڈز جاری کرنا تھے وہ جاری نہیں کیے گئے ہیں۔ اب تک منظور ہونے والے فنڈز میں سے صرف 10 فی صد رقم مل سکی ہے جو اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر بھی نہیں ہے۔
انہوں نے فلسطینی اتھارٹی اور وزارت برائے ہائر ایجوکیشن سے اپیل کی کہ وہ جامعات کو بند ہونے اور ہزاروں طلباء وطالبات کا مستقبل تاریک ہونے سے بچائیں اور جامعات کو اپنا پیشہ وارانہ کام جاری رکھنے کے لیے فنڈز جاری کریں۔
