اسلامی تحریک مزاحمت ۔ حماس۔ نے میڈیا میں آنے والی ان رپورٹس کی سختی سے تردید کی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ جماعت مصر کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرتے ہوئے برسراقتدار جماعت اخوان المسلمون کی مدد کر رہی ہے۔
حماس کے سیاسی شعبے کے رُکن عزت رشق نے جماعت پر لگائے جانے والے الزامات کو "گمراہ کن” اور بھونڈا مذاق قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔
خیال رہے کہ حال ہی میں کویت کے عربی روزنامہ”السیاسہ” اور بعض نیوز ویب سائیٹس میں خبریں شائع ہوئی تھیں کہ حماس مصر میں اخوان المسلمون مخالف ہونے والے مظاہروں کی روک تھام کے لیے ایک جامع سیکیورٹی پلان مرتب کیا ہے۔ اس پلان کا مقصد اخوان المسلمون کی حکومت کو سپورٹ فراہم کرنا اور سیاسی مخالفین کے مظاہروں کو ناکام بنانا ہے۔
حماس رہ نما عزت رشق نے کویتی اخبار کا نام لے کر کہا کہ "السیاسہ” میں شائع ہونے والی رپورٹ میں مصر کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے متعلق الزامات گمراہ کن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے الزامات کا مقصد حماس اور مصر کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرکے دو طرفہ تعلقات کو سبوتاژ کرنے کی سازشیں کرنا ہے۔
عزت رشق کا کہنا تھا کہ عرب ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت بارے حماس پر الزامات کی انگلی پہلی مرتبہ نہیں اٹھائی جا رہی۔ عرب ممالک اور حماس کے درمیان کشیدگی پیدا کرنے کے لیے مخصوص سمت میں کام کرنے والے ذرائع ابلاغ ماضی میں بھی اس طرح کے بھونڈے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔ ان الزامات کے ذریعے نہ صرف حماس کو عرب اقوام میں بدنام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے بلکہ جماعت کی صہیونی دشمن کے سامنے جرات اور قومی حقوق کے لیے مزاحمت کو بھی ناکام بنانا ہے۔
عزت رشق نے اپنے بیان میں مغربی کنارے میں حکمراں جماعت الفتح کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ الفتح قاہرہ اور دوحہ میں طے پائے قومی اتفاق رائے کے معاہدوں سے فرار اختیار کر رہی ہے، جس سے قومی مفاہمت اور مصالحت کی منزل دور ہوتی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ الفتح کا اسرائیل کے ساتھ سیکیورٹی تعاون، نام نہاد امن مذاکرات، حماس کے کارکنوں اور اس کے حامیوں کی پکڑ دھکڑ قومی مفاہمت اور مسئلہ فلسطین کے مستقبل کےلیے نہایت خطرناک ہیں۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
