مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق عوامی محاذ کے سیاسی شعبے کے رکن رباح مہنا نے مصری حکومت اور عدلیہ سے مطالبہ کیا ہے وہ اپنے فیصلوں پر نظرثانی کریں اور اس بات کی پوری طرح چھان پھٹک کرائیں کہ فلسطینی شہریوں کا نام جیل توڑنے کے مقدمے میں کیوں کر شامل کیا گیا ہے۔ ہم یہ الزام قطعی طورپر نہیں مانتے کہ کوئی فلسطینی مصرکے اندرونی معاملات میں مداخلت کرسکتا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے رباح مہنا کا کہنا تھا کہ ہم مصری عدالت کے فیصلے میں دخل اندازی نہیں کررہے ہیں لیکن یہ مطالبہ کرنا ہمارا حق ہے کہ مصر انصاف کے تقاضے پورے اور فلسطینیوں پر جیل توڑںے جیسے الزامات کی پوری طرح تحقیق کی جائے۔
خیال رہے کہ گذشتہ روز مصر کی ایک فوج داری عدالت نے اخوان المسلمون، حماس، لبنان کی حزب اللہ اور اسلامی جہاد کے کئی شہید اور اسیر ارکان کو بھی جیل توڑنے کے مقدمے میں ماخوذ قرار دے کرانہیں پھانسی کی سزاسنائی ہے اور ان کا کیس مفتی جمہوریہ کو بھجوا دیا ہے۔ مقدمے میں شامل پانچ فلسطینیوں میں سے چار شہید ہوچکے ہیں جبکہ ایک فلسطینی 1996ء سے اسرائیل کی جیلوں میں پابند سلاسل ہے۔ اس کےباوجود مصری عدالت کا دعویٰ ہے کہ وہ بھی جیل توڑنے میں معاونت کرنے والوں میں شامل تھے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
