مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق ترکی کے نائب وزیراعظم ’’بولیند ارینگ‘‘ نے انقرہ میں ’’القدس امن کا شہر‘‘ کے عنوان سے منعقدہ ایک کانفرنس سے خطاب میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایک ایسی فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ کرتے ہیں جس میں بیت المقدس کو اس کا دارالحکومت قرا ردیا جائے اور اسرائیل سنہ 1967 ء کی حدود سے پیچھے ہٹ جائے۔ خطے میں دیر پاامن کا واحد راستہ یہی ہے کہ فلسطینی قوم کو آزادی کا حق دیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ بیت المقدس خطے میں بدلتے سیاسی منظر نام کا اہم ترین محور ہے۔ اسے کسی صورت میں نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔ جب تک بیت المقدس کا تنازعہ ختم نہیں ہوجاتا اس وقت تک عرب اور اسرائیل کشمکش ختم نہیں ہوگی۔
ترکی کے نایب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ان کا ملک فلسطینیوں کی ہرممکن مدد اور حمایت جاری رکھے گا۔ ارینج کا کہنا تھا کہ سنہ 2004 ء سے 2014 ء تک دس سال کے عرصے میں ترکی نے فلسطینیوں کو 301 ملین ڈالر کی امداد فراہم کی ہے۔ اکتوبر 2014 ء میں قاہرہ میں ہونے والی عالمی ڈونرز کانفرنس میں غزہ کی تعمیر نو کے لیے 200 ملین ڈالر کی امداد کا اعلان اس کے علاوہ ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
