مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیلی کنیسٹ [پارلیمنٹ] سے خطاب کرتےہوئے نیتن یاھو کا کہنا تھا کہ "ہم اس لیے بیت المقدس میں تعمیراتی نہیں کررہے ہیں کہ ہمیں خواہ مخواہ عالمی برادری کی مخالفت مول لینی ہے۔ یہ ہمارا فطری حق ہے اور اپنے حق کے لیے ہم ہرقدم اٹھانے کو تیار ہیں۔ عالمی برادری کا نقطہ نظراپنی جگہ مگرہم مشرقی بیت المقدس میں یہودی آباد کاری پرکوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے”۔
انہوں نے کہا کہ 1990 ء کے عشرے میں مشرقی بیت المقدس میں "ھارحوماہ” کالونی قائم کی گئی تھی۔ اس وقت اس میں ہزاروں کی تعداد میں مکانات تعمیر کیے جا چکے ہیں۔ اب اس کالونی کے اندر بھی ایک پورا شہر آباد ہے۔ صہیونی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حکومت مشرقی بیت المقدس میں قائم کی گئی کالونیوں "راموت، گیلو، بسغات زئیف، زمار شلومو "اور دیگرمیں توسیع کے ساتھ ساتھ نئی کالونیاں بھی قائم کریں گے۔ ہمیں کسی کی مخالفت یا حمایت کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔
درایں اثناء فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم کے بیان پر سخت رد عمل سامنےآیا ہے۔ فلسطینی ایوان صدر کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ مشرقی بیت المقدس خود مختار فلسطینی مملکت کا دارالحکومت ہے۔ اس لیے اس میں اسرائیل کو یہودی آباد کاری کا کوئی حق نہیں ہے۔ نیز مشرق وسطیٰ میں قیام امن کا راستہ بیت المقدس سے ہوکر گذرتا ہے۔ خطے میں اس وقت تک امن قائم نہیں ہوسکتا جب تک بیت المقدس کو آزاد نہیں کرایا جاتا ہے۔
فلسطینی اتھارٹی کے ترجمان نبیل ابو ردینہ کا کہنا ہے کہ نیتن یاھو یہ باور کرانے کی کوشش کررہے ہیں کہ بیت المقدس اسرائیل کا دارالحکومت ہے۔ یاھو کا یہ موقف عالمی برادری کے موقف کے بھی خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے وقت میں فلسطین اور اسرائیل کےدرمیان سیاسی رسا کشی میں اس وقت شدت آئے گی جب فلسطینی اتھارٹی عالمی اداروں میں اسرائیل کے غیرقانونی اقدامات کے خلاف رجوع کرے گی۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
