فلسطین میں سرگرم اقوام متحدہ کے مرکز برائے انسانی امور تعاون (اوچا) نے خبردار کیا ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس میں بسنے والے 2300 فلسطینیوں کی حالت انتہائی ابتر ہو چکی ہے۔ ان فلسطینیوں میں دو تہائی بچے شامل ہیں، یہ سب فلسطینی القدس کی مشرقی جانب 20 کے لگ بھگ چھوٹی آبادیوں میں رہائش پذیر ہیں۔
اقوام متحدہ کے آفس فار دی کوآرڈینیشن آف ہیومن آفیئرز (OCHA) کی حالیہ رپورٹ کے مطابق کہ یہاں رہنے والے 80 فیصد فلسطینی پچاس کی دہائی میں جنوبی فلسطین سے نکالے جانے کے بعد ہجرت کرکے یہاں آئے ہیں، یہودی بستیوں کی توسیع کی وجہ سے ان آبادی کی چراگاہوں میں کمی آتی جا رہی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ جن خاندانوں کو یہ علاقہ چھوڑنے کا کہا گیا ہے ان میں سے اکثر پہلے ہی بجلی کی سہولت سے محروم ہیں، ان میں سے صرف نصف کو پانی کے نیٹ ورک تک رسائی حاصل ہے۔ رپورٹ کے مطابق سن 2008 اور 2012 کے دوران بدووں کی ان آبادیوں سے چار ہزار سے زائد فلسطینیوں کو ہجرت پر مجبور کیا گیا، یہ سب کارروائیاں اس بنا پر کی گئیں کہ انہوں نے بغیر اجازت تعمیر کی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ مغربی کنارے کے کیٹگری ”سی” کے علاقے میں موجود یہ آبادیاں مغربی کنارے کی سب سے زیادہ بری حالت میں موجود بستیوں میں شمار ہوتی ہیں، ان بستوں میں رہنے والے 43 فیصد مناسب خوراک سے بھی محروم ہیں۔
بشکریہ:مرکز اطلعات فلسطین
