دو فلسطینی اداروں نے پیر کے روز مقبوضہ بیت المقدس میں ایک مسیحی قبرستان کی یہودی آبادکاروں کے ہاتھوں مذمت کے واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔
اطلاعات کے مطابق یہودی آبادکاروں کے دہشت گرد گروہ "پرائس ٹیگ” گینگ کے چار ارکان نے مقبوضہ بیت المقدس میں داجانی خاندان کی ملکیتی زمین پر قائم مسیحی قبرستان میں گھس کر 15 قبروں کے کتبے توڑ ڈالے۔
اس کے علاوہ جنونی یہودی آبادکاروں کے دوسرے گروہوں نے بیت المقدس کے شیخ جراح علاقے میں عرب شہریوں کی آٹھ گاڑیوں پر حملہ کردیا اور انہیں نقصان پہنچایا۔
اقصٰی فائونڈیشن برائے اوقاف و ورثہ نے ایک بیان میں مسیحی قبرستان پر حملے کو دہشت گردانہ اور بزدلانہ حملہ قرار دیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی حکام ان گروہوں کے خلاف سخت کارروائی لینے میں کمزوری دکھانے کی وجہ سے اس عمل کی ذمہ دار ہے اور اس کی طرف سے چھوٹ دئیے جانے کی وجہ سے ہی ان گروہوں کو مزید کارروائیوں کے لئے شہہ مل رہی ہے۔
فائونڈیشن نے کہا کہ اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات پر یہودی حملوں سے ہماری جانب سے ان مقامات کے دفاع کا اصرار بڑھ جائیگا اور فلسطینی معاملات کو اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کریں گے۔
اس موقع پر بیت المقدس اور مقامات مقدسہ کی حمایت کے لئے قائم اسلامی مسیحی کمیشن کا کہنا ہے کہ ایسی کارروائیوں کا خاتمہ ہونا چاہئیے ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ بیت المقدس کو یہودی رنگ میں رنگنے کے لئے یہ تمام سازشیں کی جارہی ہیں اور اسی لئے ایک منظم پروگرام کے تحت معبدوں، تلمودی پارک اور عوامی سہولت کی عمارات تعمیر کیا جارہی ہیں تاکہ بیت المقدس کے رہائشی عربوں کو یہاں سے بے دخل کیا جاسکے اور ان کی املاک کو مسمار کردیا جائے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
