فلسطین میں مسیحی برادری کے آرتھوڈوکس نے اسرائیلی فوج میں خدمات انجام دینے سے صاف انکار کر دیا ہے جس کے بعد اسرائیلی سیاسی وعسکری حلقوں میں سخت مایوسی کی لہر دوڑ گئی ہے، جبکہ فلسطینی تنظیم اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” نے مسیحی برادری کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق کل جمعہ کے روز مقبوضہ بیت المقدس میں آرتھوڈوکس کے مرکزی چرچ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ مسیحی برادری اسرائیلی فوج اور سول سروسز کا بائیکاٹ جاری رکھے گی۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ اسرائیلی فوج اور حکومت کی طرف سے عیسائی باشندوں کو بلیک میل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
درایں اثناء حماس کے سیاسی شعبے کے سینیئر رکن عزت الرشق نے اپنے ایک بیان میں مسیحی برادری کی طرف سے صہیونی فوج میں خدمات کی انجام دہی سے انکار کا خیر مقدم کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مسیحی برادری آخر کس طرح اسرائیلی فوج میں بھرتی کی اجازت دے سکتی ہے جبکہ صہیونی فوج اور اسرائیل کی منظم ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں ان کے مقدس مقامات پر حملے اور املاک پر ناجائز قبضے بھی جاری ہیں۔ وہ حماس اور فلسطینی قوم کی جانب سے مسیحی برادری کے اس مضبوط اور جرات مندانہ موقف کی حمایت کرتی ہے۔
حماس رہ نما نے اسرائیل سے تعلقات کے قیام کی مساعی کو ایک سازش قرار دیتے ہوئے مسیحی برادری پر زور دیا کہ وہ اسرائیل سے تعلقات کے قیام کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے فلسطینیوں کی مدد جاری رکھیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
