مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر جنین کے الجلمہ قصبے میں بڑی تعداد میں یہودی آباد کاروں نے عسکری تربیت پر مشتمل مشقوں میں حصہ لیا۔
اطلاعات کے مطابق جمعرات کے روز ہونے والی ان مشقوں کے دوران فلسطینی شہریوں اور یہودی آباد کاروں کے مابین جھڑپیں بھی ہوئیں جس کے نتیجے میں متعدد فلسطینی زخمی بھی ہوئے ہیں۔
مقامی ذرائع نے بتایا کہ سیکڑوں یہودی آباد کاروں نے فوج اور پولیس کی سیکیورٹی میں جنگی مشقوں میں حصہ لیا۔ اس موقع پر یہودی آباد کاروں کو اپنے اغواء، گرفتاری اور حملوں سے بچنے کی تراکیب اور طریقے سکھائے گئے۔ یہودیوں کو بتایا گیا کہ وہ کس طرح فلسطینیوں کے حملوں میں اپنا دفاع کریں اور دشمن کو نقصان پہنچا کر اسے ناکام بنا سکتے ہیں۔
ادھر صہیونی فوجیوں نے جنوبی جنین کے سیلۃ الظھر قصبے پر دھاوا بول کر گھر گھر تلاشی لی۔ یہودی فوج کی جانب سے فلسطینیوں پر حملہ اس وقت کیا گیا جب ایک طرف یہودی آباد کار بھی جنگی مشقوں میں مصروف تھے۔ اسرائیلی فوجیوں نے فلسطینیوں پر آنسوگیس کی شیلنگ کی اور صوتی بموں کے استعمال کے ساتھ دھاتی گولیوں کا بھی استعمال کیا جس کے نتیجے میں متعدد فلسطینی زخمی ہوگئے۔
زخمیوں میں سے ایک 40 سالہ سمیر محمد مالول کو شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ آنسوگیس کی شیلنگ اور دھاتی گولیوں سے مالول کی حالت نہایت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
