فلسطینی وزیراعظم اسماعیل ھنیہ نے کہا ہے کہ اسرائیل کے قبضے سے فلسطین کی آزادی اور تمام مقدس مقامات کی حفاظت کا واحد راستہ مسلح مزاحمت اور جہاد ہے۔ فلسطینی حکومت مسلح مزاحمت کی حمایت جاری رکھے گی۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اسماعیل ھنیہ نے ان خیالات کا اظہار عرب اور اسلامی ممالک سے آئےامدادی قافلے‘‘الوفاء2’’ کے شرکاء کے استقبال کے دوران کیا۔ یہ قافلہ جمعرات کے روز غزہ کی پٹی میں امدادی سامان لے کر پہنچا تھا، جس میں قطر، مصر، اردن، شام، الجزائر اور مراکش کے امدادی کارکن شریک تھے۔
شرکاءقافلہ سے گفتگو کرتے ہوئے ھنیہ نے عالمی ادادی اداروں کی محصورین غزہ کی مشکلات کم کرنے کی مساعی کی تعریف کی اور کہا کہ اسرائیل نے فلسطینیوں کو زندہ درگور کرنے کی سازش تیاری کی تھی لیکن عالمی امدادی اداروں نے صہیونی ریاست کی اس سازش کو ناکام بنا دیا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ امدادی قافلہ ایک ایسے وقت میں غزہ پہنچا ہے جب اسرائیلی فوج کی ریاستی دہشت گردی میں کم سے کم ایک درجن فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ اس موقع پر ہم صہیونی دشمن پر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ وہ ہمیں طاقت کے ذریعے ڈرانے کی کوشش نہ کرے۔ فلسطینی قوم نے قربانیاں دینا سیکھا ہے۔ ہماری قوم اس بات پر یقین رکھتی ہےکہ وطن کی آزادی اور تمام مقدس مقامات کا تحفظ صرف مسلح جہاد کے ذریعے ممکن ہے۔
اس موقع پر امدادی قافلے کے سربراہ محمد الحنون نے کہا کہ انہوں نے فلسطینیوں کی امداد کو اپنے لیے اولین ترجیح بنا رکھا ہے۔ وہ ماضی میں بھی امدادی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور مستقبل میں بھی فلسطینیوں کی مدد اور نصرت کی مہمات جاری رکھیں گے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
