مقامی ذرائع نے مرکزاطلاعات فلسطین کو بتایا کہ نامعلوم مسلح افراد نے جنین کے ڈاکٹر خلیل سلیمان سرکاری اسپتال میں گھس کر ڈاکٹروں اور دیگر عملے کو تشدد کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوگئے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلح افراد نے کہا کہ وہ اپنے ایک مریض کا اپنی مرضی کے مطابق علاج کرانا چاہتے ہیں لیکن اسپتال کا عملہ ان کےساتھ تعاون نہیں کررہا ہے۔ مسلح افراد نے اسپتال میں اندھا دھند فائرنگ بھی کی جس کے نتیجے میں ہرطرف افراتفری پھیل گئی۔
مسلح افراد کے تشدد کے نتیجے میں اسپتال کے دو ڈاکٹروں کے بازو توڑ دیے گئے۔ اسپتال کی سیکیورٹی ناکافی ہونے کے باعث عملے کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔
مقامی شہریوں نے شکایت کی ہے کہ مسلح افراد کی جانب سے شہریوں کو ڈرانے دھمکانے کے واقعات میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے۔فلسطینی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے اسپتالوں اور دیگر سرکاری تنصیبات کی سیکیورٹی کا کوئی خاطر خواہ انتظام نہیں کیا گیا جس کے نتیجے میں اسپتالوں کے ڈاکٹر بھی غیر محفوظ ہوگئے ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ عباس ملیشیا جسے مقامی سیاسی کارکنوں کی پکڑ دھکڑ کی فرصت نہیں اسپتال میں غنڈہ گردی کے واقعے کی اسے اطلاع بھی دی گئی لیکن کئی گھنٹے تک کسی قسم کی سیکیورٹی فراہم نہیں کی گئی۔ نامعلوم مسلح بندوق بردار ڈٓاکٹروں کو زدو کوب کرنے کے بعد محفوظ طریقے سے فرار ہوگئے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
