اسرائیلی حکومت کی جانب سے فلسطین کے مقبوضہ شہر بئر سبع کی ایک تاریخی جامع مسجد میں شراب میلے کے انعقاد کے تاریخ کے قریب آتے ہی فلسطین میں اسرائیل کے اس ظالمانہ اقدام کےخلاف احتجاج شدت اختیار کر گیا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطین کے سنہ 1948ء کو اسرائیلی قبضے میں چلنے جانے والے جنوبی مقبوضہ شہروں میں فلسطینیوں کی سپریم اسٹیرنگ کمیٹی نے جامع مسجد بئر سبع میں شراب میلے کا انعقاد رکوانے کے لیے احتجاجی مظاہروں کی کال دی ہے۔ کمیٹی کی جانب سے جاری ایک بیان میں جامع مسجد الکبیر میں شراب میلے کے انعقاد جیسے مکروہ اقدام پر اسرائیلی حکومت کی سخت مذمت کی ہے۔ بیان میں مسجد میں شراب میلے کے انعقاد کو مسلمانوں کی مقدسات پر براہ راست حملہ اور مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مشتعل کرنے کی سازش قرار دیا۔
اسٹیرنک کمیٹی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بئر سبع کی جس مسجد میں صہیونی حکومت نے پانچ اور چھ ستمبر کو شراب میلے کے انعقاد کا مذموم اعلان کیا ہے وہ سنہ 1906 ء میں خلاف عثمانیہ کے دور میں مخیر مسلمانوں کے تعاون سے بنائی گئی تھی۔ مسجد میں مسلمانوں پر نماز کی ادائیگی پر پابندی مذہبی ظلم اور قابل مذمت اقدام تھا۔ بعد ازاں مسجد کو یہودی عجائب گھرمیں تبدیل کرنے کا اقدام بھی قابل مذمت اور ناقابل قبول تھا۔ فلسطینیوں نے اس سازش کے خلاف بھی تحریک چلائی تھی۔
بیان میں کہا گیا کہ بئر سبع کی جامع مسجد میں شراب میلے کا اعلان مسلمانوں کے خلاف دنیائے کفرکی تہذہبی جنگ کا حصہ ہے۔ مسجد میں شراب میلہ منعقد کر کے یہ تاثر دیا جا رہا ہےکہ اسرائیل فلسطین میں موجود تمام مقدسات پر قبضے کی کوشش کر رہا ہے اور وہ کسی بھی وقت مسجد اقصیٰ کےخلاف بھی اسی طرح کی مکروہ سازش کر سکتا ہے۔
کمیٹی نے اسرائیل کی جانب سے جامع مسجد بئر سبع میں شراب میلہ رکوانے کے لیے فلسطین بھر بالخصوص جنوبی فلسطین صحرائے نقب اور دیگر شہروں میں احتجاجی مظاہروں کی اپیل کی ہے۔ یہ احتجاجی مظاہرے روزمرہ کی بنیاد پر کیے جائیں تاکہ صہیونی حکومت کو شراب میلے کے انعقاد سے روکا جائے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
