مقبوضہ بیت المقدس کی نام نہاد اسرائیلی بلدیہ نے ایک بار پھر قبلہ اول کے مراکشی دروازے سے متصل پل کو گرانے کا مطالبہ کردیا۔
اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق صہیونی بلدیہ کا کہنا ہے کہ یہ پل مسجد پر دھاوا بولنے والے یہودی آباد کاروں کے لیے خطرناک ہے لہذا اس کو جلد از جلد منہدم کیا جائے۔
کثیر الاشاعت عبرانی روزنامے ’’معاریف‘‘ کے مطابق قبل ازیں مراکشی دروازے کے اس پل کو منہدم کرنے کی کارروائی اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو کے حکم پر روک دی گئی تھی۔ صہیونی وزیر اعظم نے پل کے انہدام کو مصر، فلسطین اور اردن کی جانب سے شدید مخالفت کے بعد موخر کیا تھا۔ تاہم صہیونی بلدیہ کا کہنا ہے کہ یہ قدیم بریج انتہائی کمزور ہوگیا ہے اور کسی بھی وقت گر سکتا ہے۔ جس کے باعث پل پر سے گزر کر مسجد اقصی میں داخل ہونے والے آباد کاروں کو بڑا نقصان پہنچ سکتا ہے۔ لہذا اس پل کر گرا کر اس کی جگہ نیا پل تعمیر کیا جائے۔
اسرائیلی بلدیہ نے نئے پل کی اجازت کے لیے ایک بار پھر وزیر اعظم کے دفتر درخواست بھجوا دی ہے۔ بلدیہ کا دعوی ہے کہ وہ ماضی میں پل کو گرانے کی اجازت حاصل کر چکی تھی تاہم وزیر اعظم کے حکم پر اس منصوبے پر کام شروع نہ ہوسکا تھا۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

