ذرائع کے مطابق نئی تعمیر کی جانے والی اسرائیلی عبادت گاہ تین منزلہ ہے جو القدس کو یہودیانے کی جانب بڑی پیش رفت ہے۔ اسرائیل القدس میں موجود اسلامی اور مسیحی شناخت کی عمارتوں اور علامات کو کم سے کم کرتا جارہا ہے۔ تازہ منصوبے کے مطابق تعمیر کیے جانے والے اس تین منزلہ کنیسے کے اوپر ایک گنبد بھی بنایا جائے گا۔ یہ عمارت سطح سمندر سے 23 میٹر بلند ہوگی جس کی تعمیر پر 05 کروڑ شیکل لاگت آئے گی۔
اقصی فاؤنڈیشن نے بتایا کہ یہ اس قسم کا تیسرا کنیسہ ہے جو گزشتہ کچھ سالوں میں اسرائیل نے القدس میں تعمیر کیے ہیں، پہلاپہلا کنیسہ ”خراب” اور دوسرا ”خمیہ اسحاق” ہے۔ یہ تینوں یہودی عبادت گاہیں اوقاف اسلامی کو ختم کرکے قائم کی گئی ہیں۔
اسرائیل کی متعدد معروف شخصیات نے اس عبادت گاہ کی تعمیر کو تاریخی اور انتہائی اہم قدم قرار دیا ہے۔ اسرائیل کی جانب سے یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا ہے جب دوسری جانب فلسطینی اتھارٹی نے اقوام متحدہ کے بطور مشاہدہ کار رکنیت کے لیے رجوع کیا ہے۔ یاد رہے کہ اقصی فاؤنڈیشن اس سے قبل ایک رپورٹ میں انکشاف کر چکی ہے کہ اسرائیلی حکام نے مسلمانوں کے تیسرے مقدس ترین مقام مسجد اقصی کے اطراف سو یہودی عبادت گاہیں اور اسکول تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
