اسرائیلی حکومت مسلمانوں کے تیسرے مقدس ترین مقام مسجد اقصی کو یہودی رنگ میں رنگنے کے منصوبے کو تیزی سے آگے بڑھا رہی ہے۔ مسجد اقصی پر یہودی آبادکاروں کے دھاوں اور اس کے اطراف یہودی تہذیب پر مشتمل عمارات کی تعمیرات اسی منصوبے کا حصہ ہے۔
ایسا ہی ایک نئی کارروائی کرتے ہوئے صہیونی حکومت نے مسجد اقصی کی دیوار براق (دیوار گریہ) کے براق صحن میں یہودی جوڑوں کی شادی کے انتظامات مکمل کر لیے ہیں۔
اسرائیل نے سن 1967 سے مسجد اقصی کی دیوار براق سے متصل اس صحن پر قبضہ کر کے اسے یہودی عبادت گاہ بنایا ہوا ہے۔ اس صحن کی توسیع کے منصوبے بھی جاری ہیں، تاہم اب اس صحن میں شادی کی تقریبات منعقد کرنے کے انتظامات بھی مکمل کر لیے گئے ہیں ،حکومت نے اس صحن کے قریب ہی شادی کے جوڑوں کے بیٹھنے پلیٹ فارم تیار کر لیا ہے۔
”القدس کے اسلامی ، مسیحی مقدس مقامات کی کمیٹی” کا کہنا ہے کہ اسرائیل مسجد اقصی کو یہودیانے اور اس کو گرا کر اس کی جگہ ھیکل سلیمانی تعمیر کرنے کے منصوبے کے مختلف مراحل طے کرتا جا رہا ہے۔ القدس کی اسلامی اور مسیحی شناخت کو مسخ کرنا بھی اسی پروگرام کا حصہ ہے اور اس ضمن میں حالیہ اقدام اٹھاتے ہوئے صہیونی حکومت نے براق صحن کے ساتھ ہی یہودی جوڑوں کی شادی کا انتظام کر لیا ہے۔
اسلامی مسیحی کمیٹی نے زور دیا کہ اسرائیل مسجد اقصی، حرم قدسی اور بیت المقدس کی شناخت کو مسخ کرتا جارہا ہے۔ ان مقدس مقامات کی مذہبی شناخت کو مجروح کرنے کے بعد اگلے مرحلے میں مسجد اقصی کو مکمل طور پر ختم کرکے اس کی جگہ ھیکل سلیمانی تعمیر کرنے کی منصوبہ بندی ہے۔ اسرائیلی فوج حالیہ دنوں حرم قدسی میں یہودی تہذیب و تمدن پر مشتمل علامات کو ترویج دے رہی ہے۔حرم قدسی اورپورے القدس کی اسلامی شناخت کو ختم کرنے کے بعد اس کے لیے مسجداقصی پر حق جتانا آسان ہو جائے گا۔
کمیٹی نے زور دیا کہ براق صحن مسجد اقصی کا جزو لاینفک ہے۔ مسلمانوں کے لیے مسجد اقصی اور براق صحن ایک ہی چیز ہیں اور اس صحن کو یہودی رنگ میں رنگنے کی کسی کوشش کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
