اقصی فاؤنڈیشن نے امت مسلمہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مسجد اقصی کو اسرائیلی شکنجے سے آزاد کروانے کے لیے فوری طور پر متحرک ہو جائے۔ کیونکہ مسلمانوں کے اس قبلہ اول کو شہید کرکے ھیکل سلیمانی تعمیر کرنے کی اسرائیلی کوششیں تیز ہوتی جارہی ہیں۔ اسرائیل کی جانب سے ھیکل سلیمانی کے مطالبات اور تیاریاں بھی تیز ہوگئی ہیں۔
اقصی فاؤنڈیشن برائے وقف و تارخی آثار نے اتوار کے روز جاری اپنے بیان میں کہا کہ مسجد اقصی کی جگہ مزعومہ ھیکل تعمیر کرنے کا منصوبہ اس مرحلے تک پہنچ گیا ہے کہ اب مسجد کی جگہ ھیکل کے تفصیلی نقشے اور اس کی تعمیر میں استعمال ہونے والے آلات اور مشینری بھی تیار کرلی گئی ہے۔
فاؤنڈیشن نے اس ضمن میں اسرائیلی سیٹلائٹ چینل ٹو پر ہفتے کی شام نشر کی گئی ایک رپورٹ کا حوالہ دیا۔ اس رپورٹ میں ھیکل کی تعمیر کے مختلف مراحل کے حوالے سے آگاہی دی گئی اور بتایا گیا کہ اس صہیونی منصوبے میں مزید پیش رفت کے بعد اب ھیکل کے نقشہ جات اور تصیلی پلان بھی تیارکرلیے گئے ہیں، اسی طرح ھیکل کے مختلف اجزاء بھی مختلف مقامات پر تیار کرلیے گئے ہیں جنہیں مسجد اقصی کی شہادت کے بعد یہاں لاکر نصب کردیا جائے گا۔ اقصی فاؤنڈیشن نے خبردار کیا کہ اسرائیلی ٹی وی چینل کی اس رپورٹ سے معلوم ہوتا ہے مسجد اقصی انتہائی خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔
یہ رپورٹ یہودی صحافیوں اور میڈیا پرسنز کی جانب سے مسجد اقصی پر دھاوے کے دو روز بعد جاری کی گئی ہے۔ ان دنوں اسرائیلی ذرائع ابلاغ میں تسلسل کے ساتھ مسجد اقصی کی مسماری کے متعلق رپورٹیں پیش کی جارہی ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسرائیل نے مسجد اقصی پر بڑے حملے کی تیاریاں کرلی ہیں۔
اسرائیلی چینل ٹو پر نشر یہ رپورٹ چینل کے ان رپورٹرز نے تیار کی ہے جنہوں نے کچھ روز قبل ہی مسجد پر دھاوا بولا تھا، اس موقع پر اسرائیلی پولیس کی حفاظت میں متعدد یہودی اورانتہاء پسند صہیونی جماعتوں کے کارکن بھی قبلہ اول میں داخل ہوئے تھے۔ اس رپورٹ میں مسجد اقصی کے متعدد مقامات پر یہودیوں کو تلمودی عبادات ادا کرتے اورمسجد اقصی کے اکثر مقامات پر تلمودی علامات کو دکھایا گیا ہے۔ رپورٹ میں ایک صہیونی کو یہ کہتے بھی دکھایا گیا کہ وہ اپنی شادی کی پہلی ھیکل سلیمانی (یعنی مسجد اقصی) جائے گا اور اس کی خواہش ہے کہ اپنی شب زفاف کی رسومات وہیں ادا کرے۔
رپورٹ میں مسجد اقصی کی جگہ ھیکل سلیمانی کی تعمیر کے لیے جس نقشے کی منظوری دی گئی وہ ”جدعون حراب” کا نقشہ تھا، جو اس نے زاموش قیدم یروشیلم کے منصوبے کے نقشوں سے حاصل کیا ہے۔ اس نقشے میں مسجد اقصی کو شہید کرکے اس کی جگہ تیسرے ھیکل کی تعمیر کی تفصیلات دی گئی ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ بحر میت کے پتھروں سے قربان گاہ بھی تعمیر کی جائے گی، اسی طرح بعض یہودی بستیوں میں ھیکل سے متعلق دیگر اشیاء تیار کرکے رکھی گئی ہیں، یہ تمام اشیاء مسجد اقصی کے قریب رکھی جارہی ہیں تاکہ جیسے ہی مسجد اقصی کو شہید کیا جائے تو فورا ان اشیاء کو یہاں لاکر نصب کردیا جائے۔
رپورٹ میں یہودیوں کی مسجد اقصی میں داخل ہوکر عبادات اور بار بارمسجد پر دھاوں سے فلسطینیوں میں شدید اشتعال پایا جاتا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق مسجد اقصی میں یہودی عبادت کی اجازت کو انتہائی اہم مسئلہ بنا کر پیش کیا گیا ہے جس میں یہودی عوام، حکومت اورسول سوسائٹی سمیت تمام حلقوں کو مسجد اقصی میں یہودی عبادات کی اجازت کی تائید کرتے دکھایا گیا ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ ماہ اسرائیل کے متعدد وزراء، اراکین پارلیمان اوردیگر رہنماؤں نے مسجد اقصی پر دھاوا بول کر یہاں پر یہودی عبادات اد کی تھیں۔
رپورٹ کے مطابق اس وقت بارہ یہودی تنظیمیں ھیکل سلیمانی کی تعمیر کے لیے سرگرم ہیں۔ یہ حکومت سے مسلمانوں کے تیسرے مقدس ترین مقام مسجد اقصی کو شہید کرنے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔
صہیونی چینل پر نشر رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہودی مذہبی حلقوں اور اہم دینی رہنماؤں کی جانب سے مسجد اقصی کی جگہ ھیکل سلیمانی کی تعمیر کے مطالبات بھی زور پکڑتے جا رہے ہیں۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
