اسرائیلی حکومت کی جانب سے مسلمانوں کی تیسری مقدس ترین مسجد کو منہدم کرکے اس کی جگہ ہیکل سلیمانی تعمیر کرنے کے منصوبے پر تیزی سے عمل درآمد جاری ہے۔
معروف فلسطینی مذہبی رہنما شیخ عکرمہ صبری نے ایک بار پھر امت کو مسجد کو یہودیانے کے اقدامات میں تیزی پر خبردار کیا ہے۔
یہ گفتگو مسجد اقصی کے خطیب اور سپریم اسلامی کونسل کے سربراہ شیخ عکرمہ صبری نے تحریک اسلامی کی جانب منعقد ایک تقریب کے دوران کی۔
ان کا کہنا تھا کہ پہلے ہم کہتے تھے کہ مسجد اقصی خطرے میں ہے مگر اب ہم کہتے ہیں کہ یہ خطروں میں ہے۔ اسرائیلی حکومت کے نمائندے اور عہدیدار سر عام یہ کہ رہے کہ مسجد اقصی کے صحن عنقریب ایک عام جگہ کی حیثیت اختیار کرلیں گے جہاں ہر کسی کو جانے کی عام آزادی ہوگی۔ اگر مسجد اقصی کے صحنوں کو یہودیوں کے لیے کھول دیا گیا تو پھر مسجد اقصی کی تین چوتھائی اراضی اسرائیلی بلدیہ کے قبضے میں چلی جائیگی۔
حرم ثالث کے خطیب شیخ صبری نے پرزور طریقے سے کہا کہ مسجد اقصی کے حرم قدسی کی بالشت بھر زمین سے بھی دستبردار نہیں ہوا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیلی اٹارنی جنرل کا کہنا ہے کہ مسجد اقصی اسرائیلی ریاست کا حصہ ہے جبکہ ہمارا موقف ہے کہ مسجد اقصی مذاکرات اور سیاست سے بالاتر ہے جس کے لیے سب کچھ قربان کیا جا سکتا ہے۔
شیخ عکرمہ صبری نے یہ خطاب ’’مسجد اقصی خطرے میں‘‘ کے عنوان سے سترہویں تقریب میں کیا۔ ام فحم میں منعقد اس تقریب میں الجلیل، نقب، مثلث اور القدس سے ہزاروں فلسطینیوں نے شرکت کی۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
