اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق القدس کی صہیونی بلدیہ نے وزارت سیاحت کے ساتھ ملک دس لاکھ ڈالرز کی لاگت سے مسجد اقصی کی جنوبی سلوان کالونی میں یہودی آباد جاری کا ایک نیا منصوبہ تیار کر لیا ہے۔
مسجد کے گھیراؤ کو مکمل کرنے کے اس منصوبے کو سیاحت کے فروغ کے دلنشین عنوان دیا گیا ہے۔
اسرائیلی اخبار ’’ھارٹز‘‘ کے مطابق اس منصوبے کے تحت مقبوضہ بیت المقدس کی مشرقی کالونی سلوان میں ایک میوزیم تعمیر کیا جائے جس میں ویڈیو اور آڈیو ایڈز کے ذریعے ’’شہر داؤد‘‘ کی تاریخ پیش کی جائے گی۔ منگل کے روز صہیونی ذرائع ابلاغ میں شائع تفصیلات کے مطابق ’’نیشنل گارڈن‘‘ کے نام سے ایک میوزیم تعمیر کیا جائے گا، منصوبے کی تکمیل یہودی آباد کاری کی تنظیم ’’العاد‘‘ محمکہ باغات و فطرت کی نگرانی میں کرے گی۔ یہ تنظیم مقبوضہ مشرقی القدس کی مشرقی کالونیوں کو یہودی رنگ میں رنگنے کے حوالے سے معروف ہے۔
’’ھارٹز‘‘ کا کہنا ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس کی اسرائیلی بلدیہ اس منصوبے کے لیے پہلے نو لاکھ شیکل مختص کرچکی تھی گزشتہ ہفتے اس مقصد کے لیے گیارہ لاکھ شیکل مزید رکھے گئے۔ وزارت سیاحت کی جانب سے منصوبے کے لیے بیس لاکھ شیکل الگ ہیں۔ اس طرح اس منصوبے پر کل چالیس لاکھ کے لگ بھگ اخراجات ہونگے۔ روزنامے کے مطابق اسرائیلی بلدیہ کے نائب سربراہ اور بائیں بازو کی تنظیم میرٹس کے رہنما بابا ایلالو جو اس منصوبے کے مخالف بھی ہیں نے کہا کہ اسرائیلی وزارت سیاحت اور القدس بلدیہ ایک بار پھر سلوان کے علاقے پر قبضہ کرنے کے لیے فنڈز کا رخ ایسے منصوبوں کی طرف لے جا رہے ہیں۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

