عرب تنظیم برائے انسانی حقوق، لندن نے خبر دار کیا ہے کہ مسلمانوں کے قبلہ اول پر اسرائیل کی جارحیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔
بالخصوص مسجد اقصی کے نیچے کی جانے والی کھدائیوں سے مسجد اقصی کی بنیادیں کمزور ہوتی جارہی ہیں۔
عالمی تنظیم نے یہودی آباد کاروں اور اسرائیلی سکیورٹی فورسز کی جانب سے مسجد اقصی میں داخل ہوکر تلمودی عبادات کی ادائیگی اور اور مسجد کی بے حرمتی کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اپنے حالیہ بیان میں کہا کہ یہودی آباد کاروں، اراکین پارلیمان اور انتہاء پسندوں کی جانب سے قبلہ اول میں داخل ہونا انتہائی باعث تشویش ہے کیونکہ یہ افراد اپنے تلمودی عبادات کی دوران مسجد اقصی کو گرا کر اس کی جگہ ھیکل سلیمانی تعمیر کرنے کی دعائیں کرتے ہیں۔
تنظیم نے مسجد اقصی پر حالیہ اسرائیلی فوج کے دھاوے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس حملے میں وردیوں میں ملبوس اسرائیلی فوج کا دستہ پولیس کی حفاظت میں مسلمانوں کے تیسرے مقدس ترین مقام مسجد اقصی میں داخل ہوا، 21 مئی کو داخل ہونے والے اس دستے میں 85 مردوخواتین شامل تھے جو مسجد اقصی کے تمام حصوں میں دندناتے رہے اور اس مقدس مقام کی بے حرمتی کرتے رہے۔
بیان میں کہا گیا کہ اس طرح مسجد اقصی میں داخل ہونے کے انتہائی خطرناک نتائج نکلیں گے۔ اگر مسجد اقصی پر یہ دھاوا ایک سیاحتی دورہ تھا تو ان اہلکاروں کو فوجی لباس میں آنے کی کیا ضرورت تھی، سرکاری وردیوں میں مسجد میں گھسنے کا مطلب ہے کہ انہیں سرکاری طور پر مسجد اقصی کی بے حرمتی کرنے کا پروانہ دیا گیا تھا۔ اور یہ سب دراصل اسرائیلی وزارت دفاع میں یہودی مذہبی پیشوا کے پیش کردہ منصوبے کا ہی ایک حصہ ہے۔
تنظیم میں کہا گیا کہ اسرائیلی فوجیوں اور یہودی آباد کاروں کے ان دوروں کا مقصد ھیکل سلیمانی کی تعمیر کے منصوبے کو آگے بڑھانا ہے جس کے مطابق القدس میں کسی دوسرے مذہب یا تہذیب کو پروان نہ چڑھنے دینا ہے۔ اسرائیلی مذہبی رہنماؤں کے مطابق اسرائیلی فوج کے مسجد اقصی پر دھاوں کا مقصد صہیونی فوج کو ھیکل سلیمانی کی تعمیر کے جذبے سے وابستہ رکھنا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ اگرچہ اسرائیلی وزارت دفاع اپنے اس منصوبے سے انکاری ہے تاہم حالیہ کارروائیاں اس کے دعووں کی نفی کرتے ہیں اور صاف معلوم ہوتا ہے کہ اسرائیلی وزارت دفاع خفیہ طور پر فوجیوں کو ھیکل سلیمانی کی تعمیر کے لیے تیار کرنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
