اسرائیلی کنیسٹ نے انتہاء پسند رکن پارلیمان کی جانب سے جمع کروائے جانے والے نئے بل پر بحث کا فیصلہ کرلیا ہے، اس بل میں مسلمانوں کے تیسرے مقدس ترین مقام مسجد اقصی کو مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان تقسیم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
نیشنل یونین نامی پارٹی کے رکن پارلیمان اری الڈاڈ کی جانب سے پارلیمان میں پیش کیے گئے اس بل میں تجویز دی گئی ہے کہ یہودیوں کو مسجد اقصی میں داخل ہونے کی مکمل اجازت دی جائے، بالخصوص یہودی تہواروں کے موقع پر مسجد اقصی کو مسلمانوں کے لیے بند کرکے اسی طرح صرف یہودیوں کے لیے کھولا جائے جیسے الخلیل میں مسجد ابراھیمی کو کھولا جاتا ہے۔
تجویز کے مطابق اس قانون کے منظوری کے مطابق مسلمانوں اور یہودیوں کے لیے مسجد اقصی میں داخل ہوکر عبادات ادا کرنے کے دن مخصوص ہو جائیں گے۔ اور مسجد اقصی ایک وقت میں صرف یہودیوں یا صرف مسلمانوں کے لیے کھولی جائے گی۔
اری الڈاڈ کے پیش کردہ اس بل سے قبل اسرائیلی حکمران جماعت ’’لیکود‘‘ پارٹی کے ایک رکن زئیف الکین بھی کنیسٹ میں ایک بل پیش کر چکے ہیں جس میں انہوں نے تجویز دی تھی کہ مسلمانوں کا مقدس مقام صرف مسجد اقصی اور مسجد گنبد صخرہ ہے، 144 ایکڑ پر مشتمل حرم قدسی کے باقی تمام صحن مسلمانوں کے مقدس مقامات میں شامل نہیں، لہذا یہودیوں کو مخصوص ایام میں مسجد کے ان صحنوں میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے اور ان دنوں میں مسلمانوں کے مسجد اقصی میں داخلے پر مکمل پابندی عائد کردی جائے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
