فلسطینی وزیر اوقاف اور مذہبی امور ڈاکٹر اسماعیل رضوان نے کہا ہے کہ مسجد اقصی اور القدس الشریف حقیقی خطرے سے دوچار ہیں۔ مصری علماء کا دورہ غزہ پر کئی برسوں سے مسلط سیاسی، معاشی اور معاشرتی حصار کا خاتمہ ہے۔
ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر اسماعیل نے غزہ کا دورہ کرنے والے مصری علماء کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ مصری علماء وفد کی قیادت سپریم اسلامی کونسل کے سربراہ ڈاکٹر صلاح سلطان کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر اسماعیل نے وفد کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ مصری علماء فلسطین کا دورہ ایسے وقت کر رہے ہیں کہ جب مسلمانوں کا قبلہ اول کھٹن دور سے گزر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل، القدس کی اسلامی ہیئت تبدیل کرنے کے لئے انتہائی اقدام کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مصری علماء کی غزہ آمد اسرائیل کے لئے پیغام ہے کہ القدس اکیلا نہیں بلکہ پوری امت اس کی پشتی بان ہے اور آپ کی فلسطین آمد اس بات کی دلیل ہے کہ آپ کے دل میں قبلہ اول کا درد موجود ہے۔
فلسطینی وزیر اوقاف نے اسرائیل کی غزہ پر حالیہ جنگ میں سیز فائر پر مصری کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہ قاہرہ کی انہی کوششوں سے فلسطینی مزاحمت کی کامیابی کا اعلان کرنے کے قابل ہو سکے۔ انہوں نے کہا اس میں کسی کو شک نہیں ہونا چاہئے کہ فلسطین، ہر مسلمان کا ہے۔
اس موقع پر مصری وفد کے سربراہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم بطور علماء اور مفکرین مسلح جہاد کے حق میں پرچار اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک صہیونیوں کی اولاد سے ہمارا فلسطین کا چپا چپا پاک نہیں ہو جاتا۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلح جہاد ہی اسرائیل کو مقبوضہ علاقوں سے چلتا کرنے کا مثالی راستہ ہے۔
علامہ سلطان نے کہا کہ ہم غزہ سے ثابت قدمی کا درس لینے آئے ہیں۔ اہالیاں غزہ، امریکی اور یورپی محاصرے کی وجہ سے عذاب اٹھا رہے ہیں۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
