اسرائیلی حکومت نے مسجد اقصیٰ کی مغربی دیوار سے متصل مشہور مراکشی دروازے کے راستے پر یہودی خواتین کے لیے ایک معبد کی تعمیر کا آغاز کردیا ہے۔
مسجد اقصیٰ کی تعمیرو مرمت کے ذمہ دار ادارے "الاقصیٰ فاؤنڈیشن وٹرسٹ” کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ مراکشی دروازے کے راستے پر یہودی خواتین کے لیے معبد کی تعمیر کے منصوبے کا آغاز حال ہی میں عیدالفصح کی تقریبات کے دوران کیا گیا ہے، جس کے بعد وہاں پر کھدائیوں کا کام شروع کردیا گیا ہے۔
بیان میں بتایا گیا ہے کہ مسجد اقصیٰ کی مغربی سمت میں چند میٹر کے فاصلے پر مراکشی دروازے کے راستے میں لکڑی کے بڑے بڑے ستون کھڑے کیے گئے ہیں اور ان کے درمیان کھدائی شروع کی گئی ہے۔ ان ستونوں کے اوپر لکڑی کی عارضی چھت ڈالی گئی ہے تاکہ باہر سے اس کے اندر ہونے والی سرگرمیوں کا جائزہ نہ لیا جاسکے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ لکڑی کے اس چبوترے کے اندر ایک میز کے ساتھ متعدد کرسیاں رکھی گئی ہیں اور بجلی پر چلنے والا ایک پنکھا بھی اس کی چھت کے ساتھ نصب کیا گیا ہے۔
یہ کھدائی یہودی خواتین کے لیے مجوزہ معبد کی تعمیر کے لیے کی جا رہی ہے اور یہاں پر فلسطینیوں کو قریب آنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
اقصیٰ فاؤنڈیشن نے مسجد اقصیٰ کے پہلو میں یہودی خواتین کے لیے معبد کی تعمیر کو اسرائیل کا گھناؤنا جرم قرار دیتے ہوئے حسب معمول عالمی برادری بالخصوص مسلمان اور عرب ممالک سے قبلہ اول کے دفاع کی درخواست کی ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
