
برطانیہ میں مقامی تنظیموں اورعرب ، فلسطینی برادری نے مشترکہ طور پر جمعہ کے روز لندن میں قائم صہیونی سفارت خانے کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔
مظاہرین نے بیت المقدس میں یہودی بستیوں کی تعمیر اور مسجد اقصیٰ کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے پر صہیونی فوج کے اور حکومت کے خلاف سخت مذمتی نعرے لگائے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق احتجاجی جلوس میں سیکڑوں افراد شریک تھے۔ انہوں نے اپنے ہاتھوں میں بینرز اور کتنے اٹھا رکھے تھے جن پر”دنیا القدس کی آزادی چاہتی ہے”، اسرائیل یہودی بستیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کو آزاد کرایا جائے اور اس طرح کے دیگر نعرے درج تھے۔
احتجاجی مظاہرے کا اہتمام برطانیہ فلسطین کلب، برطانیہ میں اسلامی اور فلسطینی رابطہ کمیٹی، برطانوی یکجہتی کونسل برائے فلسطین، برطانیہ اسلامی رابطہ گروپ اور یورپی مہم برائے انسداد معاشی ناکہ بندی غزہ اور جوہری اسلحے کےخلاف سرگرم عالمی تنظیم سمیت دسیوں دیگر تنظیمیں شامل تھیں۔ مظاہرین اسرائیلی سفارت خانے کے باہر جنگ بند کرو، فلسطینیوں پر مظالم بند کرو، مسجد اقصیٰ کو آزاد کرو کے نعرے لگا رہے تھے۔
مظاہرین نے کل تیس مارچ کوبیت المقدس سےاظہار یکجہتی کے لیے جمع ہونے والے لاکھوں افراد کے ساتھ بھی اظہار یکجہتی کیا جو دنیا کے اسی ممالک سے فلسطین کی سرحد کے ساتھ جمع ہوئے ہیں۔ برطانیہ میں فلسطینی کلب کے رکن زاہر بیراوی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ لندن میں صہیونی سفارت خانے کے باہر مظاہرے کا مقصد القدس ملین مارچ کےساتھ اظہار یکجہتی کرنے والوں کی حمایت کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک جانب پوری دنیا سے لوگ بیت المقدس کی سرحد کے ساتھ جمع ہو رہے ہیں اور دوسری جانب ہم ان کی حمایت میں اور اسرائیل کےخلاف پوری دنیا کے سفارت خانوں میں احتجاجی مظاہرے منعقد کر رہے ہیں۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
