مسجد اقصیٰ اور القدس امور کے مرکز برائے اطلاعات’’کیو پریس‘‘ کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی حکومت اور یہودی توسیع پسندی میں سرگرم ایک نجی تنظیم’’العاد‘‘ نے مشترکہ طورپر زیرزمین سرنگ کے منصوبے پر کام جاری رکھا ہوا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس وقت یہ کھدائیاں سلوان کے وسط میں ’عین ام الدرج‘ کے نیچے جاری ہیں۔
مرکزبرائے اطلاعات کا کہنا ہے کہ انہوں نے سلوان میں سرنگ کے دھانے پرایک آہنی دروازہ دیکھا ہے جس کے اندر کھدائیوں کا کام جاری ہے۔ کھدائیوں کا سلسلہ کئی ہفتوں سے جار ہے اور اسے مسجد اقصیٰ کے جنوب سےشمال کی جانب کھودا جا رہا ہے۔
مقامی فلسطینی شہریوں نے بھی سرنگ کے کھودے جانے کی گواہی دی ہے۔ ام الدرج کے مقام پررہائش پذیر فلسطینی شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ دن رات اپنے مکانوں کے نیچے کھدائیوں کی آوازیں سن رہے ہیں۔ مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ سرنگ سلوان سے شروع ہوئی ہے جسے مسجد کے جنوب مشرقی حصے سے گذار کر دور اموی کے کھنڈرات کے نیچے تک لے جایا جائے گا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
