غاصب یہودیوں کی جانب سے قبلہ اول پر حملوں کی تیاریوں کےخلاف عالم اسلام میں شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ اسرائیل کی انتہا پسند حکمران جماعت "لیکوڈ” کی جانب سے مسجداقصی میں اپنے شدت پسندوں کو داخل کرنے کے اعلان پر اردن میں اسرائیلی سفارت خانے کے قریب ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق مظاہرے کا اہتمام اردن کی مذہبی اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے کیا گیا تھا۔ یہ احتجاجی مظاہرہ عمان میں اسرائیلی سفارت خانے سے کچھ فاصلے پر الرابیہ کے مقام پر کیا گیا۔
مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر اسرائیل کےخلاف شدید نعرے درج تھے۔مظاہرین نے اسرائیل کےخلاف نعرے بازی بھی کی۔
احتجاجی ریلی سےخطاب کرتے ہوئے مقررین نے عالم اسلام پر زوردیا کہ وہ قبلہ اول کے تحفظ کے لیے متحد ہو جائیں۔ مظاہرین نے حکومت سےمطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ ہرقسم کے سفارتی تعلقات ختم کرتے ہوئے اسرائیل کے سفیر کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر ملک سے نکال دیں۔
مظاہرے کے دوران سیکیورٹی کی بڑی تعداد کو امن وامان کی ذمہ داری سونپی گئی تھی ۔ فوج اور پولیس کی بڑی تعداد کے ہونے کے باجود ہزاروں افراد احتجاجی مظاہرے میں شریک ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

