مقبوضہ یروشلم کے مقدس مقامات کی حفاظت کے لئے قائم مسلم مسیحی کمیٹی نے ایک بیان میں اسرائیل کی وزارت مذہبی امور کے ایک منصوبے کے بارے میں خبردار کیا ہے کہ جس کے مطابق قانون میں ترمیم کر کے یہودی آبادکاروں کو مسجد اقصیٰ میں مذہبی رسومات کی ادائی کی اجازت دی جائیگی۔
کمیٹی نے کہا کہ ایسے اقدام اور منصوبے مسجد اقصیٰ کی واضح اور شدید توہین کے زمرے میں آتے ہیں اور ان کا مقصد مسجد کی اقصیٰ کی تباہی اور اس کی جگہ پر ایک مندر کھڑا کرنے ہے۔
کمیٹی نے مسجد کے احاطے میں ہونے والی کاروائیوں اور صیہونی حکومت کی مسلسل خلاف ورزیوں اور اس سب کے باوجود بین الاقوامی خاموشی کی مذمت کی۔
کمیٹی کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر حنا عیسیٰ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج مشرقی یروشلم میں جبل مکبر کی زمینوں پر فوجی کالج بنانا چاہ رہی ہے اور اس منصوبے کا مقصد اسرائیل کا مسجد اقصیٰ پر قبضہ جمانا ہے۔
کمیٹی نے مسجد اقصیٰ تک پہنچ رکھنے والے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ مسجد صحن میں پہنچ جائیں اور قابض حکام کے منصوبوں کو ناکام بنا دیں۔
کمیٹی نے بین الاقوامی برادری، اداروں اور تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ مداخلت کریں اور مسجد کی یہودی آبادکاروں اور قابض حکام کے ہاتھوں ہونے والی توہین کو رکوائیں۔ اس کے علاوہ کمیٹی کے مطابق صیہونی فوج نے تمام حدود پار کرلی ہیں اور تمام بین الاقوامی قوانین اور روایات کو توڑ دیا ہے۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
