اسرائیل کے داخلی سلامتی کے خفیہ ادارے”شن بیٹ” کے کئی سابق عہدیداروں نے حکومت اور مذہبی انتہا پسند جماعتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مسلمانوں کے قبلہ اول پراپنیبالادستی قائم کرنے کے لیے کوششیں تیز کریں۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیل کے ایک یہودی ربی نے مبینہ طور پر انکشاف کیا ہے کہ "شن بیٹ” کے ریٹائرڈ عہدیداروں نے اسے اور کئی دوسرے مذہبی رہ نماؤں سے بھی کہا ہے کہ وہ مسجد اقصیٰ کی خود مختاری کو اپنے تابع کرنے کے لیے اقدامات کریں۔ تاکہ مسجد اقصیٰ پرصہیونی بالادستی قائم کرکے مسلمانوں کی "اجارہ داری” کو ختم کیا جاسکے۔
"جبل عتصیون” ریلیجن انسٹیٹیوٹ کے چیئرمین یہودی ربی یعقوب میدان نے یہ بات دو روز قبل سابق وزیراعظم مناحیم بیگن کے حوالے منعقدہ ایک سیمنار سے خطاب میں کہی۔ انہوں نے بتایا کہ ملک کے جنرل سیکیورٹی سے متعلق خفیہ ادارے”شاباک”(شن بیٹ) نے مشورہ دیا ہے کہ حرم قدسی میں زیادہ سے زیادہ یہودیوں کی موجودگی کویقینی بنانے کی کوشش کی جائے تاکہ مسجد اقصیٰ پر ہماری بالادستی قائم ہوسکے۔
درایں اثناء مسجد اقصیٰ کی تعمیرو مرمت کی ذمہ دار تنظیم "اقصیٰ فاؤنڈیشن و ٹرسٹ” کے ترجمان محمود ابو عطاء نے شمالی فلسطین کےشہر ام الفحم میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ رواں سال میں اب تک دولاکھ یہودیوں کو”سیر سپاٹے” کی آڑ میں مسجد اقصیٰ لا کر اس پریہودی اجارہ داری قائم کرنے کی کوشش کی گئی۔
ابو عطا کا کہنا تھا کہ 2013ء کے آغاز سے اب تک چھ ماہ میں 2000 انتہا پسند یہودی اور1000 صہیونی فوجی فوج کی وردیوں میں ملبوس مسجد اقصیٰ میں داخل ہوئے اور قبلہ اول کی بے حرمتی کا ارتکاب کیا۔ ان کے علاوہ مجموعی طورپر 02 لاکھ یہودی سیاحوں کو قبلہ اول میں لایا گیا۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
