مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق ترک صدر نے ان خیالات کا اظہار ترکمانستان کے صدر مقام عشق آباد میں ایک تقریب سے خطاب میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ عالم اسلام اپنے قبلہ اول کو یہودیوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتے ہیں۔ صہیونی حکومت عالمی معاہدے کےتحت مسجد اقصیٰ کو تحفظ مہیا کرنے کی پابند ہے۔ اگر وہ پابندی نہیں کرے گی تو ہم جبرا ایسا کرائیں گے کیونکہ قبلہ اول کے خلاف صہیونیوں کے ذلت آمیز اقدامات ناقابل معافی جرم ہے۔
ترک صدر نے مسجد اقصیٰ پر صہیونیوں کے حملوں اور اسرائیلی حکومت کی مقبوضہ بیت المقدس کے خلاف جاری ریشہ دوانیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ مسجد اقصیٰ کی موجودہ صورت حال کے حوالے سے اقوام متحدہ کے منفی کردار پربھی کڑی نکتہ چینی کی۔ صدر ایردوآن نے استفسار کیا کہ کیا اگر فلسطین میںکسی یہودی معبد پرکوئی ایسا حملہ کیا جاتا جیسا یہودی شرپسندں کی جانب سے مسجداقصیٰ کے خلاف روز مرہ کی بنیاد پر کیا جا رہا اور جو گھٹیا حرمتی کی جا رہی ہیں۔ تو کیا اس پر بھی اقوام متحدہ کا یہی ردعمل ہوتا؟۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ جیسے عالمی ادارے میں شامل بڑی طاقتیں صہیونیوں کے مظالم پرخاموش تماشائی ہیں اور یواین کی خاموشی اسرائیل کو مظالم جاری رکھنے کی حوصلہ افزائی کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسجد اقصیٰ پر حملے کی گھٹیا حرکت خانہ کعبہ پر حملے کے مترادف ہے،جسے کسی صورت میں نظرانداز نہیںکیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر اقوام متحدہ فلسطین میںمساجد اور بچوں کو بھی تحفظ نہیں دلا سکتی تو میرے خیال میں اس ادارے کا کوئی وجود ہی نہیں ہے۔ اس کے ہونے اور نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ انہوںنے استفسار کیا کہ کیا اقوام متحدہ کے منشور میں مذہبی آزادی حق شامل نہیں۔ اگر ہے تو پھر فلسطینیوں سے مسجد اقصیٰ میں عبادت کا حق کیوں سلب کیا جا رہاہے۔ کیا اقوام متحدہ اس پرنوٹس لینے کی مجاز نہیں؟۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
