مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق ترکی صدر رجب طیب ایردوآن نے اپنے فلسطینی ہم منصب محمود عباس سے ٹیلیفون پر بات چیت کرتے ہوئے یہودی فوجیوں کے ہاتھوں قبلہ اول کی بے حرمتی اور نمازیوں پر تشدد کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ قبلہ اول جیسے مقدس مقام پر یہودیوں کی غنڈہ گردی مذہبی دہشت گردی ہے جس پر خاموش رہنے کا کوئی جوازنہیں ہے۔ انہوں نے صدر محمود عباس کو یقین دلایا کہ ترکی قبلہ اول میں یہودی غنڈہ گردی کو عالمی سطح پر اٹھائے گی۔
صدر ایردوآن کا کہنا تھا کہ مسجد اقصیٰ پورے عالم اسلام کے نزدیک ایک حساس مقام ہے جس کی بے حرمتی کسی قیمت پر برداشت نہیں کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے یہودی فوجیوں کے ہاتھوں مسجد اقصیٰ کے بے حرمتی کا نوٹس لینے کا بھی مطالبہ کیا۔
خیال رہے کہ اسرائیل میں عبرانی سال نو کے موقع پر اتوا اور کل سوموار کے ایام میں صہیونی فوجیوں اور انتہا پسند یہودیوں نے بار بار قبلہ اول میں گھس کرمقدس مقام کی بے حرمتی کی ہے۔ اتوار کے روز یہودی فوجی مسجد اقصیٰ کے قدیم حصے جامع القبلی میں داخل ہوئے اور وہاں پر موموجود معتکفین پرآنسوگیس کی شیلنگ کی جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوگئے تھے۔
عرب لیگ کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ
فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” کی قیادت نے بھی صہیونی فورسز کے ہاتھوں مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ حماس کے مقامی رہ نما نزیہ ابو عون نے کہا کہ مسجد اقصیٰ پریہودیوں کے حملے ناقابل معافی جرم ہیں۔ صہیونی سازشوں کی روک تھام کے لیے عالم اسلام موثر حکمت عملی وضع کریں۔ انہوں نے مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی پر عرب لیگ کا فوری اجلاس بلانے کا بھی مطالبہ کیا۔
ابو عون کا کہنا تھا کہ صہیونی ایک سازش کے تحت نہ صرف یہ کہ مسجد اقصیٰ کی کھلے عام بے حرمتی کررہے ہیں بلکہ وہ قبلہ اول کو یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان تقسیم کرنے کی ایک گھنائونی سازش کی بھی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان اور فلسطینی امن پسند قوم ہیں مگر انتہا پسندوں کے ساتھ بقائے باہمی کے اصول کے تحت آگے نہیں بڑھا جا سکتا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق مسجد اقصیٰ پرصہیونی حملوں کے رد عمل میں جماعت اسلامی لبنان، جماعت اسلامی پاکستان کی جانب سے بھی سخت مذمت کی گئی ہے۔ جماعت اسلامی لبنان کی جانب سے جاری بیان میں مسجد اقصیٰ پرصہیونی حملوں کو عالم اسلام کی مجرناہ خاموشی کا نتیجہ قرار دیا گیا ہے۔
