اسرائیلی پارلیمنٹ [کنیسٹ] کی داخلہ کمیٹی آج پیر کے روز مسجد اقصیٰ میں یہودیوں کی عبادت کے ٹائم فریم کے بارے میں غور کررہی ہے۔ اس سلسلے میں صہیونی پارلیمنٹ کی داخلہ کمیٹی کا یہ پہلا اجلاس ہے۔
مسجد اقصیٰ کی تعمیرومرمت کی ذمہ دار تنظیم "الاقصیٰ فاؤنڈیشن وٹرسٹ” کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ قبلہ اول میں یہودیوں کی عبادات اور مذہبی رسومات کی ادائیگی کے امور پر نظر رکھنے والی کمیٹی "ٹسور” نے کنیسٹ کی داخلہ کمیٹی کے آج ہونے والے اجلاس میں شرکت کے لیے کئی یہودی گروپوں کے قائدین کو بھی دعوت دی ہے تاکہ وہ اجلاس میں اپنا اپنا نقطہ نظر بھی پیش کرسکیں۔ ان میں "ارتھ فنڈ”،”جبل ھیکل”،”جبل ہیکل ٹرسٹیز فاؤنڈیشن”،”خواتین برائے ہیکل سلیمانی” اور "تحریک برائے تعمیر ہیکل” جیسے گروپ خاص طور پر شامل ہیں۔
اقصیٰ فاؤنڈیشن کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ "ٹسور” کمیٹی کے آج کے اجلاس میں روزانہ تین سے پانچ گھنٹے یہودی آباد کاروں کی عبادت کے لیے مختص کیے جانے کی تجویز دی جاسکتی ہے۔ کمیٹی پہلے ہی پولیس اور سیکیورٹی اداروں کو مسجد اقصیٰ میں داخل ہونے والے یہودیوں کو فول پروف سیکیورٹی مہیا کرنے کا مطالبہ کرچکی ہے۔ آج کے اجلاس میں اس موضوع پر خاص طور پر مزید بحث کی جائے گی۔
یہودیوں کا مسجد اقصیٰ میں داخلہ آسان بنانے سے متعلق یہ اجلاس یہودیوں کی "عید الفصح” کی مناسبت سے ہو رہا ہے۔ یہودیوں کا یہ مذہبی تہوار 14 اپریل کو شروع ہو گا اور اس کی تقریبات ایک ہفتے تک جاری رہیں گی۔
ادھر کل اتوار کو 133 یہودی فوجیوں نے مسجد اقصیٰ پر دھاوا بول کر مقدس مقام کی بے حرمتی کی۔ جبکہ کل ہی کے روز 41 انتہا پسند یہودی اور 10 صہیونی انٹیلی جنس اہلکاروں نے بھی مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کی۔ عینی شاہدین کے مطابق نماز ظہر کے بعد 70 یہودی فوجی وردیوں میں ملبوس مسجد اقصیٰ میں آدھمکے۔ جن کے فوری بعد ایک درجن یہودی آباد بھی مذہبی نعرے لگاتے قبلہ اول میں داخل ہوگئے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
