مسجد اقصٰی کی تعمیرو مرمت کی ذمہ داری تنظیم الاقصیٰ فاؤنڈیشن و ٹرسٹ کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ دیوار براق کے ساتھ جو با یہودی معبد اسرائیل تعمیر کرنے جا رہا ہے۔ اس کا ایک حصہ سنہ 1967 ء کو قبلہ اول پرقبضے کے بعد تعمیر کیا جائے گا۔ اسی کو توسیع دیتے ہوئے اب مسجد کی جنوبی سمت میں اموی محلات اور جنوب مغربی سمت میں مراکشی دروازے تک اسے وسعت دی جائے گی۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اس مبینہ بڑے یہودی معبد کی تعمیر کے نتیجے میں مسجد اقصٰی کا ایک وافر حصہ براہ راست یہودیوں کے قبضے میں چلاجائے گا اور وہ اپنی مرضی کےمطابق مذہبی رسومات ادا کریں گے۔ اقصٰی فاؤنڈٰیشن نے اسے مسجد اقصٰی کے خلاف ایک گھناؤنی اورگھٹیا سازش قرار دیتے ہوئے عالم اسلام سے قبلہ اول کو یہودیت سے بچانے کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا۔
بیان میں بتایا گیا ہے کہ صہیونی حکومت کی جانب سے دیوار براق کے ساتھ ایک بڑا یہودی معبد تعمیر کرنے کا حتمی فیصلہ کرنے کے لیے وزارت داخلہ اور کابینہ کے حکام پر مشتمل ایک کمیٹی قائم کی گئی ہے جو روز مرہ کی بنیاد پر اپنے اجلاسوں میں اس منحوس پروجیکٹ کےمختلف پہلوؤںپر غور کرتی ہے۔ کمیٹی میں وزیراعظم کے سیکرٹری افیحائی منڈلبلط” یہودی ایجنسی کے نٹان چیرانکی اور کئی دیگر عہدیدار شامل ہیں۔
دیوار براق کے ساتھ یہودی معبد کا منصوبہ سنہ 1967 ء کے بعد سے زیر غور چلا آرہا ہے۔ اسرائیل اس مذموم مقصد کے لیے مسجد اقصٰی کی 150 میٹرطویل جگہ کی نشاندہی کرنے کے بعد اس میں تعمیرات کا کام کئی سال قبل شروع کردیا تھا۔ مسجد اقصٰی کے جنوب مغرب میں الزاویہ کے مقام سے شروع ہونے والا یہ معبد، مراکشی دروازے سےہوتے ہوئے دیوار براق اور التنکزیہ اسکول تک وسیع ہوگا”۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
