مصر کی پارلیمانی کمیٹی برائے عرب امور نے مسجد اقصیٰ ، مقبوضہ مغربی کنارے میں مسجد ابراہیمی اور بیت المقدس کےخلاف جاری یہودیوں کی شرانگیز ریشہ دوانیوں کی شدید مذمت کی ہے۔
مصری پارلیمنٹ نے واضح کیا ہے کہ قبلہ اول اور تمام فلسطینی مقدسات کاتحفظ مصر عوام سمیت پورے عالم اسلام کی ذمہ داری ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق پیر کے روز مصری پارلیمانی کمیٹی برائے عرب امور و دیار فلسطین کےاجلاس میں مسجد اقصیٰ پر یہودیوں کے حملوں کے بارے میں گرما گرم بحث ہوئی۔ اس موقع پر تمام اراکین نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ انتہا پسندوں کو لگام دے اور قبلہ اول کی مسلسل توہین رکوائے۔ ورنہ یہودی انتہا پسندوں کی اشتعال انگیز کارروائیوں کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔
کمیٹی نےعالمی برادری کی توجہ مسئلہ فلسطین کی جانب مبذول کراتے ہوئے زور دیا کہ مسئلہ فلسطین کا منصفانہ اور فلسطینی قوم کی خواہشات کے مطابق حل ہونا اب اور بھی ضروری ہو گیا ہے۔
مصری پارلیمانی کمیٹی کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ قاہرہ مسئلہ فلسطین کے فوری حل کا خواہاں ہے اور اسرائیلی حکومت کو واضح پیغام دے رہا کے کہ مسجد اقصیٰ اور دیگر مقدسات پر یہودیوں کے حملوں کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ مصر مقبوضہ بیت المقدس کو آزاد فلسطینی ریاست کا دارالحکومت سمجھتا ہے اور اسرائیل پر زور دیتا ہے کہ وہ سنہ 1967ء سے پہلے والی پوزیشن پر چلا جائے اور بقیہ علاقوں پر فلسطینیوں کو اپنی ایک آزاد اور خود مختار ریاست کے قیام کا موقع دے۔
مصری پارلیمنٹ نے فلسطینی پارلیمنٹ کے ساتھ مکمل اظہار یکجہتی کرتے ہوئے زیرحراست تمام فلسطینی اراکین پارلیمان بالخصوص فلسطینی اسپیکر ڈاکٹر عزیز دویک کی فوری رہائی کا بھی مطالبہ کیا۔ پارلیمانی کمیٹی نے فلسطینیوں کے درمیان مفاہمت کی مساعی کی حمایت کی اور توقع ظاہر کی کہ 18 فروری کو قاہرہ میں ہونے والے اجلاس میں فلسطینی دھڑے مفاہمت کاعمل آگے بڑھانے،قومی حکومت کے قیام اور تنظیم آزادی فلسطین کی تنظیم کا اعلان کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

