اسرائیلی میڈیا میں آنے والی تازہ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ قابض صہیونی حکومت نے مقبوضہ بیت المقدس اور فلسطینی علاقوں میں یہودی تعمیرات میں سرگرم تنظیم”العاد” کو ساڑھے چار ملین ڈالرز کی رقم فراہم کی ہے، جسے مسجد اقصیٰ کے جنوب میں سلوان کالونی اور دیگر مقامات پر یہودیوں کی فلاح و بہبود کے لیے تعمیرات پر صرف کیا جائے گا۔
عبرانی اخبار”ہارٹز” کی رپورٹ کے مطابق تل ابیب انتظامیہ نے بیت المقدس کی صہیونی بلدیہ کی درخواست پر”العاد” کو16 ملین شیکل یعنی ساڑھے ملین امریکی ڈالرز فراہم کیے ہیں، جنہیں یہودی تعمیرات پر صرف کیا جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق اس رقم سے مسجد اقصٰی کے جنوب میں تعمیرات کے ساتھ ساتھ ایک سڑک کی تعمیر، تلمودی پارک اور قبلہ اول کی بنیادوں میں کھدائیاں بھی کی جائیں گی۔ رپورٹ کے مطابق اس سارے منصوبے پربلدیہ کی جانب سے 20 ملین شیکل کے بجٹ کی درخواست دی تھی۔ کل بجٹ کا نصف وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے فراہم کیا جائے گا اور بقیہ نصف حصہ وزارت صحت اور بیت المقدس کی دیہی کونسل اپنی جانب سے خرچ کرے گی۔
خیال رہے کہ مقبوضہ بیت المقدس میں یہودی توسیع پسندی کے لیے نیا بجٹ ایک ایسے وقت میں منظور کیا گیا ہے جب فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے درمیان راست مذاکرات بھی جاری ہیں۔ ان مذاکرات میں اگرچہ کھل کر فلسطین میں یہودی توسیع پسندی کی روک تھام پر بات نہیں ہو رہی ہے تاہم عالمی سطح پر اسرائیل پرمسلسل دباؤ برقرار ہے کہ وہ مقبوضہ عرب علاقوں میں یک طرفہ طور پر تعمیرات کا سلسلہ روک دے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
