الاقصٰی فائونڈیشن برائے تعمیر و مرمت نے انکشاف کیا ہے کہ بیت المقدس کے تفتیش مراکز میں موجود فلسطینی اسیران کو ذہنی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
ادارے کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے حالیہ دورانیے میں مسجد اقصٰی میں موجودگی کی بناء پر خواتین، بچوں اور بوڑھوں کے خلاف پرتشدد کارروائیوں میں اضافہ کردیا ہے۔
52 سالہ حج محمد شوکت خطیب نے بتایا ہے کہ اسرائیلی فوج نے انہیں 10 جون کو مسجد اقصٰی پر ایک چھاپے کے دوران پولیس کی کارروائی میں خلل ڈالنے اور ایک یہودی آبادکار پر حملے کے الزام میں حراست میں لیا گیا۔ شوکت کے مطابق اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ ان کے پاس اس الزام کی تصدیق کے لئے وڈیو بھی موجود ہے۔
بیت المقدس کی 53 سالہ عیدہ سیداوی کا کہنا ہے کہ انہیں مسجد اقصٰی کے باب حطہ سے حراست میں لئے جانے کے دوران اسرائیلی پولیس والوں نے شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔
سیداوی نے مزید بتایا کہ انہیں اسرائیلی تفتیش کاروں نے انہیں ان کے لئے کام کرنے کی پیشکش کی اور کہا کہ وہ انہیں جاسوسی کے بدلےمیں پیسے بھی فراہم کریں گے۔ انہیں حراست میں لئے جانے کے سترہ گھنٹے بعد ضمانت پر رہا کیا گیا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
