• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 6 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home فلسطین

مسجدا قصیٰ میں مسلمانوں کے کردار کو ختم کرنے کی صہیونی سازش کا انکشاف

اتوار 06-09-2015
in فلسطین
0
plf aqsa
0
SHARES
0
VIEWS

فلسطین کے مسجد اقصیٰ اور بی المقدس سے متعلق امور کے تجزیہ نگار نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل ایک منظم سازش کے تحت مسجد اقصیٰ کے دفاع کے لیے سرگرم فلسطینیوں کو کچلنا چاہتا ہے تاکہ قبلہ اول سے متعلق مسلمانوں کے کردار کو ختم کیا جاسکے۔

مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق تجزیہ نگار حسن خاطر نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ حالیہ کچھ عرصے کے دوران مسجد اقصیٰ میں مردو خواتین نمازیوں کی نماز کی ادائی پرپابندیوں اور مسجد کے دفاع کے لیے سرگرم فلسطینیوں پر تشدد دراصل صہیونی وزیرداخلہ گیلاد اردان کے اس مطالبے پرعمل درآمد کا حصہ ہے جس میں انہوں نے مسجد اقصیٰ کےمحافظوں کو شرپسند اور تخریب کار قرار دے کران پرپابندی عاید کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

حسن خاطر جو "القدس انٹرنیشنل سینٹر” کے چیئرمین بھی ہیں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صہیونی حکومت کے نام نہاد سیکیورٹی ادارے ایک عرصے سے مسجد اقصیٰ کے خلاف سازشیں کررہے ہیں۔ اسرائیلی داخلی سلامتی کےوزیر گیلا اردان کا مطالبہ تو اب سامنے آیا ہے۔ صہیونی فوج قبلہ اول کے دفاع میں سرگرم فلسطینیوں پر پابندیاں تو بہت پہلے سے لگانے کی کوششیں کرتے آئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مسجد اقصیٰ کے خلاف سازش اور مقدس مقام کے دفاع کرنے والوں کو تخریب کار اور شرپسند قرار دے کران پرپابندیاں عاید کرنا ایک خطرناک سازش معلوم ہوتی ہے۔ اسرائیل اس سازش کے ذریعے فلسطینیوں اور مسلمانوں کا قبلہ اول کے حوالے سے کردار ختم کرنے کی سازش کررہا ہے۔

حسن خاطر کا کہنا تھا کہ مسجد اقصیٰ کا دفاع مسلمانوں کے ایمان اور عقیدے کا حصہ ہے۔ ہم صرف اس مقام پر نماز ادا کرتے اور عبادت ہی نہیں کرتے ہیں بلکہ اسے اسلام میں تیسرے مقدس ترین مقام کا درجہ حاصل ہے۔ اس لیے اس کا دفاع حرمین شریفین کے بعد پوری مسلم امہ پر واجب ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل مذہبی سازشوں کے ذریعے قبلہ اول میں مداخلت کررہا ہے۔ اس ضمن میں مسجد اقصیٰ کو یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان زمانی اور مکانی اعتبار سے تقسیم کرنے کی گھنائونی سازشیں بھی محل نظر ہیں۔

حالیہ ایام میں اسرائیلی افواج اور پولیس کی جانب سے فلسطینی نمازیوں پر جو پابندیاں عاید کی ہیں ان سے صاف دکھائی دیتا ہے کہ صہیونی حکومت ایک طے شدہ حکمت عملی کے تحت فلسطینیوں کو مسجد سے دور کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ نمازیوں پر طاقت کا استعمال خواتیں کو ہفتوں اور مہینوں کے لیے مسجد اقصیٰ میں داخل ہونے اور نماز کی ادائی سے روکنا معمولی باتیں نہیں بلکہ قبلہ اول کے دفاع کے لیے جاری فلسطینی تحریک کو کمزور کرنی کی گہری سازش ہیں۔

سامی خاطر کا کہنا تھا کہ اسرائیل ابھی تک مسجد اقصیٰ کو یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان تقسیم کرنے کی سازش میں کامیاب نہیں ہوسکا ہے مگر سنہ 2010 ء سے یہ سازشیں شدت اختیار کرگئی ہیں۔ یہودیوں کو مسجد اقصیٰ میں زیادہ سے زیادہ وقت دیا جاتا ہے اور مسلمانوں کو نماز اور عبادت کا کم سے کم وقت دیا جا رہا ہے۔

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.