• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 6 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home فلسطین

مساجد پردھاوے ووٹروں کے دل جیتنے کا مکروہ صہیونی ہتھکنڈہ

پیر 16-03-2015
in فلسطین
0
plf to-win-hearts
0
SHARES
3
VIEWS

اسرائیل میں انتخابات قریب آتے ہی یہودی سیاست دان فلسطین میں مسلمانوں کے مقدس مقامات خصوصا  بیت المقدس میں مسجد اقصیٰ  اور مغربی کنارے کے شہر الخلیل میں واقع جامع مسجد الخلیل پر یلغار اپنا معمول بنا لیتے ہیں۔ مساجد پردھاوے دراصل انتہا پسند یہودی وٹرووں کے دل جیتے اور ان کی ہمدردیاں حاصل کرنے کا ایک مکروہ ہتھکنڈہ ہے جسے سال ہا سال سے نہایت کامیابی کے ساتھ استعمال کیا جا رہا ہے۔

مقدس مقامات کی بے حرمتی انتہا پسند یہودی سیاست دانوں کے لیے کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ انہیں اقتدارتک پہنچنا ہوتا ہے، چاہے اس مقصد کے لیے انہیں کسی بھی قسم کے قبیح جرم کا ارتکاب ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔

پچھلے چند دنوں سے الخلیل میں مسجد ابراہیمی یہودی انتہا پسند سیاست دانوں کے ہاتھوں مسلسل پامال ہو رہی ہے۔ دو روز قبل اسرائیلی رکن کنیسٹ نفتالی بینٹ نے مسجد ابراہیمی میں داخل ہو کر یہودیوں سے خطاب کیا اور مذہبی رسومات ادا کرکے یہودی انتہا پسندوں کی حمایت کے حصول کی ناکام کوشش کی۔ کل اتوار کو اسرائیلی وزیرخارجہ آوی گیڈور لائبر مین مسجد ابراہیمی کے جنوب مشرقی دروازے سے انتہا پسندوں کے جھرمٹ میں اندر داخل ہوئے۔ لائبرمین نے توراتی طریقے سے نماز پڑھی، اس کے بعد وہاں پر جمع ہوئے یہودیوں کے سامنے انتہا پسندی اور دہشت گردی کے موضوع پر تقریر کی۔

یہودی توسیع پسندی کی کوشش

مسجد ابراہیمی کے ڈائریکٹر الشیخ منذر ابو الفیلات نے اسرائیلی وزیرخارجہ آوی گیڈور لائبر مین کے مسجد ابراہیمی پردھاوے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ لائبرمین کا یہ دورہ غیراعلانیہ تھا جس کے بارے میں کوئی پیشگی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔ ہمیں تو اس وقت پتا چلا کہ وہ اپنا دورہ مکمل کرکے واپس بھی چلا گیا۔

ابو الفیلات کا کہنا ہے کہ لائبرمین کی جانب سے مسجد ابراہیمی میں دھاوے اور الخلیل شہر میں دورے کا ایک خاص مقصد تھا۔ وہ اپنے لیے یہودی انتہا پسندوں کے ووٹ تو مانگ ہی رہے تھے مگر اس کے ساتھ ساتھ ان کے اس دورے کا مقصد مغربی کنارے میں یہودی توسیع پسندی کے مزید اقدامات کا جائزہ لیناتھا۔

انہوں نے کہا کہ کسی بھی صہیونی عہدیدار کی جانب سے مسجد ابراہیمی میں داخلہ اور الخلیل آمد کا اصل مقصد یہودی توسیع پسندی ہی ہوتی ہے۔ الخلیل میں آنے والا ہرصہیونی سیاست دان مغربی کنارے کے یہودیوں کو تسلی دینے اور انہیں مطمئن رہنے کی تلقین کرتا ہے۔ انہیں بتایا جاتا ہے کہ حرم ابراہیمی کے ہوتے ہوئے انہیں کسی قسم کی مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ حرم ابراہیمی تمام یہودیوں کے دلوں میں بستا ہے۔ وہ صرف انتخابات ہی کے موقع پر یہاں نہیں آتے بلکہ جب بھی انہیں موقع ملتا ہے وہ یہاں حاضری دیتے ہیں۔

ترجیحات

الخلیل کے دورے سے واپسی کے بعد تل ابیب میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے لائبرمین نے کہا کہ ان کا دورہ الخلیل معمول کا واقعہ ہے۔ وہ جس طرح دوسرے شہروں کے دورے کرتے ہیں۔ اس طرح انہوں نے الخلیل کا بھی دورہ کرلیا۔ اس میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ الخلیل شہریہودیوں کا مرکز ہے اور وہ کسی صورت میں اس سے دستبردار نہیں ہوں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیل کی ماضی میں تمام حکومتوں نے الخلیل شہر پرخصوصی توجہ مرکوز کیے رکھی۔ ہرحکومت کی اولین ترجیح الخلیل کو اس کے اصلی باشندوں[فلسطینیوں] کے وجود سے پاک کرکے اسے یہودی شہرمیں تبدیل کیا جائے۔ اپنے اس مذموم مقصد کی تکیمیل کے لیے صہیونی حکومتوں نے حرم ابراہیمی جیسے

 

بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.