اسرائیل کے وزیردفاع ایہود باراک نے کہا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے درمیان مسئلہ فلسطین کے ’’دو ریاستی حل‘‘ کاکوئی امکان نہیں کیونکہ مسئلے کا دو ریاستی حل قابل عمل نہیں رہا ہے۔
اسرائیلی میڈٰیا میں شائع ہونے والے ایک بیان میں موشے یعلون کا کہنا ہے کہ فلسطینی اور اسرائیلی دو جڑواں افراد کی طرح ہیں جن کا جسم ایک ہے۔ انہیں ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جاسکتا ہے۔ اس لیے فلسطینی ریاست کا الگ سے وجود اور اس کا تشخص ممکن نہیں ہے۔
صہیونی وزیردفاع کا کہنا تھا کہ اگر فلسطینی ریاست قائم بھی ہوگئی تب فلسطینیوں کی اقتصادی اور معاشی ترقی کی ضمانت نہیں۔فلسطینی ریاست معاشی طوپر خود ہی ناکام ہوجائے گی۔ فلسطینی ریاست کو انفرااسٹرکچر، بجلی، پانی،قدرتی وسائل اور دیگر بہت سی اہم سہولیات کے حصول میں مشکلات کا سامناکرنا پڑے گا کیونکہ فلسطین کے بیشتر قدرتی وسائل پر اسرائیل کا کنٹرول ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
