اسرائیلی حکومت میں شامل انتہا پسند وزیرخارجہ آوی گیڈور لائبرمین نے کہا ہے کہ اگر وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کی حکومت امن مذاکرات کی آڑ میں مزید فلسطینی قیدی رہا کیے تو ہم پارلیمنٹ تحلیل کرکے قبل از وقت انتخابات کی تیاری کریں گے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اپنے ایک بیان میں شدت پسند صہیونی وزیرخارجہ نے فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے پندرہ عالمی اداروں کی رکنیت کے حصول کی درخواست کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے اشتعال انگیز اور امن کے قیام کے لیے تباہ کن قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینیوں کے ساتھ مزید بات چیت کی کوئی گنجائش باقی نہیں بچی ہے۔ کم از کم فلسطینی تخریب کاروں کی رہائی کا تو کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے۔
اسرائیلی اخبار "یروشلیم پوسٹ” کے مطابق لائبرمین نے ان خیالات کا اظہار امریکا میں ایک تقریب سے خطاب میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے سامنے صرف تین آپشنز ہیں۔ پہلا یہ کہ ہم فلسطینییوں کے مطالبات اور خواہشات کے سامنے سرتسلیم خم کر لیں اور سیکڑوں تخریب کاروں کو رہا کر دیں۔ دوسرا یہ کہ ہم حکومتی اتحاد تبدیل کردیں اور تیسرا یہ کہ قبل از وقت انتخابات کرائیں۔ اس کے علاوہ ہمارے پاس اور کوئی چارہ باقی نہیں رہا ہے۔
صہیونی پارلیمنٹ میں شامل انتہا پسند جماعت "جیوش ہوم” کے سربراہ کا کہنا تھا کہ پہلے دونوں آپشن ہمارے لیے ناقابل قبول ہیں۔ اگر ہمیں فلسطینی قیدیوں کی رہائی کی طرف جانا ہے تو پھر جیوش ہوم قبل از وقت انتخابات کی طرف جائے گا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
