فلسطینی وزیر اعظم اسماعیل ھنیہ کا کہنا ہے قوم کی حفاظتی ڈھال اور اس کی تلوار اس کی مزاحمت ہی ہے چنانچہ ساری قوم کو متحد ہو کر اسرائیل کےخلاف میدان عمل میں کودنا ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ قوم دشمن کے سامنے اپنے مسلمہ حقوق کے حصول کی جدوجہد کے کٹھن راستے پر گامزن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ پر مسلسل حملوں کے بعد امن برقرار رکھنا اگرچہ انتہائی مشکل ہے تاہم حکومت اس ضمن میں پوری کوشش جاری رکھے ہوئے ہے۔
’’مرکز اطلاعات فلسطین‘‘ کے نمائندے نے بتایا کہ مصری حکام نے غزہ کی پٹی میں فلسطینی مزاحمت کار تنظیموں سے رابطہ کر کے امن قائم کرنے کی کوششیں شروع کر دی ہیں جس پر فلسطینی تنظیموں نے اسرائیل کی جانب سے حملوں کا سلسلہ روکے رکھنے کی ضمانت فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
خیال رہے کہ غزہ اور اسرائیل کے مابین امن برقرار رکھنےکا معاہدہ طے ہے تاہم 2005ء میں غزہ سے نکالے جانے کے بعد سے اب تک اسرائیل آئےروز غزہ پر حملے کر کے ہزاروں افراد کو شہید کر چکا ہے۔ اس ضمن میں سب سے خطرناک 23روزہ آپریشن کاسٹ لیڈ تھا جس میں ڈیڑھ ہزار فلسطینی شہید اور ساڑھے پانچ ہزار زخمی ہوئے تھے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

